اٹلی میں اسلامی مراكز اور مساجد كی تعميرپر مختلف انداز كی پابندياں

IQNA

اٹلی میں اسلامی مراكز اور مساجد كی تعميرپر مختلف انداز كی پابندياں

اعزازی نامہ نگار/ جلال بيطرفان: دائیں بازو كی شدت پسند پارٹی"اتحاد شمالی" آہستہ آہستہ اٹلی كی ايك بڑی طاقت میںتبديل ہو رہی ہے اور اس نے اس ملك كی پارليمنٹ میں مطالبہ پيش كيا ہےكہ اٹلی میں مسجد كی تعمير پر پابندی لگائی جا ئے۔

بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی " ايكنا'' كے اعزازی نامہ نگار نے خيمہ سائیٹ كے حوالے سے نقل كيا ہے كہ اس مطالبہ كی بنا پر پورے يورپ میں اسلامی مراكز اور مساجد كی تعمير حكومت كےكنٹرول میں آ جائے گی۔ اس مطالبہ كی بنا پر ايسی مساجد كی تعمير كی اجازت دی جائے گی جن كا كلسيا سے ايك كلومیٹر كا فاصلہ ہو اس كےعلاوہ اس علاقے كےلوگوں كی رائے لينا بھی ضروری ہے اور اس كےعلاوہ دوسری شرائط میں سے ايك شرط یہ لگائی گئی ہےكہ ان مساجد كے اطراف میں تجارتی سرگرميوں اور اطالوی زبان میں نماز جمعہ كےخطبوں پر پابندی ہوگی۔ اس پارٹی كے پارليمنٹ كے اسپيكر" پروبرتوكوتا" نے اس بارے میں كہا كہ میں ايك اسلامی مركز يا مسجد كی تعمير كی خبر ركھتا ہوں تو ناراض ہو جاتا ہوں۔ قابل ذكر ہے كہ كہ اس وقت اٹلی میں ۲۰۰ مساجد اور ۵۰ اسلامی مركز سرگرم عمل ہیں۔
303853