بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا'' كی رپورٹ كے مطابق اس پروگرام كا انعقاد چالوس شہر كی مختلف دينی اور ثقافتی تنظيموں نے مل كر كيا ہے۔ اس سيمينار سے خطاب كرتے ہوئے يونيورسٹی كےپروفيسر حجۃ الاسلام صالحی نے كہا كہ پردہ وہ حقيقت ہے جسے مسلمان عورت كےلیے دين نے لازمی قرار ديا ہے او عفت جو كہ حيا اور اندرونی شرم كے معنی میں ہے یہ پردے كا نتيجہ ہے۔ قرآن اور دينی تعليمات میں بھی عفت كی رعايت كرنے كےمختلف نمونے ذكر كیےگئے ہیں۔ انھوں نے كہا كہ بعض گناہ حق اللہ میں سے ہیں اور ان پر اب معاشرتی اثرات مرتب ہوتے ہیں ليكن بعض گناہ بلا واسطہ سماج سے متعلق ہیں جو معاشرے میں بے راہ روی كا باعث بنتے ہیں۔ انھوں نے كہا كہ حجاب اور پردے كا بہت بڑامقام ہے اور اس كی رعايت كرنے سے عورت خدا سے عہدوپيمان باندھتی ہے۔ خود عورت كی اہميت اور مقام كا اس بات سے بھی اندازہ لگايا جا سكتا ہے كہ وہ جلدی بالغ ہو جاتی ہے اور خدا كی امانتوں كا بوجھ اس كے كاندھوں پر آ جاتا ہے اور ايك اچھی با كردار عورت بدكار اور گناہگار مرد كو بھی راہ راست پر لا سكتی ہے لہذا عورت كا انفرادی اور اجتماعی زندگی میں بہت بڑا كردار ہے۔
317695