بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی 'ايكنا" نے نيوز ايجنسی" Eslahiraq" سے نقل كيا ہے كہ ابراہيم جعفری نے اس امن قرار داد كو ملك میں ڈيموكريسی كی پايداری میں ايك ركاوٹ ہے اور ہم اس قرار داد كی بھر پور مخالفت كرتےہیں۔ انھوں نے كہا كہ اس قرار داد سے عراقی عوام كو ناگوار خطرات لاحق ہوں گے اور عراق كی سياسی صورتحال میں امريكہ كی دخالت كا پيش خيمہ ہے۔ انھوں نے آخر میں ضلعی و بلدياتی كونسلوں كے اليكشن كےحوالے سے تاكيد كی كہ انتخابات مقرر مدت میں ہونے چاہيیں اور یہ عراق كی سياسی پايداری میں پہلا قدم ہو گا۔ ياد رہے اس قرار داد كی مختلف مراجع من جملہ آيت اللہ سيستانی اور دوسرے مراجع نے اس قرار داد كی مخالفت كی اور سيد مقتدی صدر نے بھی اپنی مخالفت كا اظہار كرتے ہوئے پارليمنٹ كی طرف سے قرار داد كی منظوری پر پورے عراق میں تين روزہ عمومی سوگ كا اعلان كيا۔
331762