بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی " ايكنا" كی رپورٹ كے مطابق " الجزيرہ نیٹ " نے لكھا ہے كہ عصام سلطان نے اس حوالے سےكہا ہے كہ شيخ الازہر كا اسرائيلی صدر سےمصافحہ كرنا اور اس كےبيانات غزہ كےمحاصرہ سےعدم اطلاع پر دلالت كرتے ہیں یہ الازہر كےقانون كی شق ۳۰ كےخلاف ہے۔ انھوں نے كہا كہ الازہر كی اسلامی تحقيقی يونين كے اكثر اراكين طنطاوی كی اس ادارہ سے ركنيت ختم كرنے كے حق میں ہیں۔ كيونكہ طنطاوی نے اسرائيل سے تعلقات قائم كرنے كا عندیہ دے كر الازہر دينی ادارے كی غلط تصوير دنيا والوں كے سامنے پيش كی ہے اور الازہر كے علماء كو بھی اس پر حيران كر ديا ہے۔ عصام نے كہا كہ طنطاوی نے اپنے غير ذمہ دارانہ مصافحہ سےالازہر كے ان تمام قوانين كی دھجياں اڑا دی ہیں جن میں اسرائيل سے تعلقات كو جرم قرار ديا گيا تھا۔ الوسط جماعت كےقائد نے شيخ الازہر كو ايك حكومتی ملازم قرار ديتے ہوئے كہا كہ اسلامی ممالك كےمسلمانوں كے درميان یہ بات گردش كر رہی ہے كہ صرف مصری صدر ہی شيخ الازہر كو عزل كر سكتے ہیں جبكہ یہ بات قابل افسوس ہے۔
334127