بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی " ايكنا" كی رپورٹ كے مطابق آيت اللہ محمد تقی مصباح يزدی نے گزشتہ روز ثقافت و معارف اسلامی يونيورسٹی كےطلباء سے گفتگو كرتے ہوئے كہا كہ صرف علم حاصل كرنا انسان كی خوشبختی كا ضامن نہیں بلكہ انسان كی سعادت اور خوش بختی كے لیے ضروری ہے كہ وہ علم پر عمل كرے۔ امام خمينی تحقيقاتی انسٹیٹيوٹ كے سرپرست نے مزيد كہا كہ صرف معلومات كو اكٹھا كرنا اور اپنے ذہن كو معلومات سے پر كر دينا انسان كو كمال تك نہیں پہنچاتا بلكہ ممكن ہے كہ انسان كی بدبختی كابھی سبب بن جائے۔ آيت اللہ مصباح يزدی نے كہا كہ انحرافی اور غلط فرقے بے عمل علماء نے پيدا كیے ہیں۔ انھوں نے مزيد كہا كہ اگر علم غرور، تكبر، دنيا پرستی اور مال و دولت پرستی كے ساتھ ہو تو یہ علم نہ صرف انسان كو خوشبخت نہیں بناتا بلكہ اس كو گمراہ كرتا ہے انھوں نے ان حكمرانوں كی تعريف كی جو اقوام كو علم كے حصول كی تاكيد كرتے ہیں۔ انھوں نے وضاحت كی كہ علوم كی دو قسمیں ہیں ايك قسم علوم كی وہ ہے كہ جن كا نتيجہ صرف اس دنيا میں ظاہر ہوتا ہے۔ اور موت آنے كے بعد ان علوم كا اثر باقی نہیں رہتا اور علوم كی دوسری قسم وہ ہے كہ جن كا اثر موت كے بعد بھی باقی رہتا ہے۔ اور قيامت تك ان علوم كا اثر باقی رہتا ہے۔ آيت اللہ مصباح يزدی نے علم دين كی طرف لوگوں كی توجہ كو انقلاب اسلامی كا مرہون منت قرار ديا۔
359129