جمہوریہ آذربائيجان كے علمی مراكز میں حجاب پر دوبارہ پابندی

IQNA

جمہوریہ آذربائيجان كے علمی مراكز میں حجاب پر دوبارہ پابندی

سياسی وسماجی گروپ: جمہوریہ آذربائيجان كے علمی مراكز میں با حجاب طالبات كے داخلہ كو دوبارہ منع كرنے كا حكم صادر كر ديا گيا ہے۔
بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" شعبہ جمہوریہ آذربائيجان كی رپورٹ كے مطابق ، جمہوریہ آذربائيجان كے شہر باكو اور دوسرے شہروں میں اگر كوئی مختصر نگاہ دوڑائے تو اسے یہ حقيقت واضح طور پر معلوم ہوتی ہے كہ جمہوریہ آذربائيجان كی خواتين اسلامی حجاب كو پسند كرتی ہیں ليكن چند دنوں سے حجاب پر پابندی كا مسئلہ دوبارہ اٹھايا گياہے۔ جمہوریہ آذربائيجان كی وزارت تعليم نے سكولوں میں با پردہ طالبات كے داخلہ پر پابندی كے لیے ايك كميشن تشكيل ديا ہے جو تحقيق كے لیے سكولوں كا دورہ كرے گا۔ جمہوریہ آذربائيجان كے دينی اعتقادات كے دفاع كےمركز كےسربراہ " ايلقار ابراہيم اوگلو" نے اس بارے میں كہا كہ سركاری اہل كار مختلف اوقات میں اپنی مرضی سےايسے اقدامات كرتےرہتے ہیں۔ انھوں نے كہا كہ جمہوریہ آذربائيجان كا آئين ، خواتين كو اس بات كی اجازت ديتا ہے كہ وہ سكولوں، اداروں اور حكومتی اداروں میں باپردہ آ كركام كریں حتی كہ یہ آئين عورتوں پر پردے كی پابندی كو منع كرتا ہے۔ ابراہيم اوگلو نے مزيد كہا كہ افسوس سے كہنا پڑتا ہے كہ سوشلسٹ يا كيمونيسٹ افكار ركھنے والے بعض حكومتی عہدہ دار اپنی من مانی پر سكولوں میں حجاب پر پابندی لگاتے ہیں۔ ليكن آذربائيجان كی خواتين اپنے اس حجاب كی پابند ہیں اور اس پر ايمان ركھتی ہیں اور یہ ان كا دينی اور قومی حق ہے كہ وہ حجاب اور پردہ سے استفادہ كریں۔
372521