بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" كی رپورٹ كے مطابق " قرآن كی تاريخی حيثيت پر ايك نگاہ" نامی كتاب كے مصنف " جعفر نكو نام" نے كتاب پر نقدو تبصرہ كی محفل میں كہا كہ قرآنی تاريخ نزول يعنی قرآن كے مختلف حصوں كی تاريخ كو متعين كرنا اور قرآن كے ان حصوں كی تشخيص جو ايك ہی دفعہ پيغمبر اكرم (ص) پر نازل ہوئے يا تدريجا نازل ہوئے اور بعدمیں ايك سورہ كی شكل میں تعين كيا گيا ايسی مباحث ہیں جو اس كتاب كا حصہ ہیں۔ انھوں نے كہا كہ علم تاريخ قرآن يعنی آيات الہی كے نزول كی دقيق تاريخ كا تعين كرنا ہے اور یہ بحث علوم قرآنی كے اہم اور با اہميت ابحاث میں شامل ہےاور اس علم میں معمولاً ايسے موضوعات بيان كیے جاتے ہیں جو نزول قرآن كے بعد آنے والی تبديليوں وغيرہ سے وابستہ ہوتے ہیں جيسے جمع قرآن اور آيات كی تدوين، قرآن كا رسم الخط، قرائت قرآن، علل اختلاف در قرائت وغيرہ۔ انھوں نے كہا كہ انيسویں صدی میں مستشرقين نے اس موضوع پر قلم اٹھايا اور وہی قرآن كی تاريخ گزاری كا آغاز كرنےوالے ہیں۔
374686