وہابيت كی اہل تشيع سے دشمنی سياسی اہداف كی خاطر ہے

IQNA

وہابيت كی اہل تشيع سے دشمنی سياسی اہداف كی خاطر ہے

سياسی وسماجی گروپ: وہابی اور سلفی متعدد بار اہل بيت (ع) سے اپنی دشمنی كو ثابت كر چكے ہیں۔
بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" كی رپورٹ كے مطابق حوزہ علمیہ قم كے استاد حجت الاسلام والمسلمين " نجم الدين طبی"نے مدرسہ فيضیہ میں " وہابيوں اور سلفيوں كی نظر میں اہل بيت (ع) كے مقام" كے موضوع پر ايك علمی نشست میں گفتگو كرتے ہوئے كہا كہ وہابيوں اور سلفيوں كی اہل بيت (ع) سے تمام دشمنياں سياسی تھیں۔ حجت الاسلام طبی نے كہا كہ فرقہ وہابيت كی كوئی علمی اور اعتقادی بنيادیں نہیں ہیں اور حقيقی اہل سنت كا راستہ وہابيت سے جدا ہے۔ اہل سنت كے بزرگ علماء نے اپنی كتب میں اہل بيت (ع) كی عظمت بيان كی ہے۔ انھوں نے مزيد كہا كہ وہابيوں اور سلفيوں نے متعدد بار اہل بيت (ع) سے اپنی دشمنی كا اظہار كيا ہے۔ انھوں نے مزيد كہا كہ آجكل مختلف ممالك میں وہابيوں كی مالی سپورٹ سے كتابیں شائع اور تقسيم ہو رہی ہیں اور ان كتابوں كے بعض كلمات كو زبان پرلانا شرم آور ہے۔ علوم حديث يونيورسٹی كی علمی كمیٹی كے ركن نے كہا كہ وہابی علماء اہل سنت كے علماء كو بھی حضرت علی علیہ السلام اور آئمہ معصومين (ع) كی تعريف كرنے پر برا بھلا كہتے ہیں۔ انھوں نے كہا كہ وہابی ،سلفی اور ناصبی ايك چھوٹا سا گروہ ہے جو اسلام كے نزديك سے بھی نہیں گزرا اوراہل تشيع اور اہل بيت (ع) كے ساتھ ان كی دشمنی كا كوئی بھی انكار نہیں كر سكتا۔ طبسی نے آخر میں كہا كہ آج تمام شيعہ وسنی مسلمان وہابيوں كو سياسی اور سماجی معاملات میں قبول نہیں كرتے۔ ياد رہے كہ یہ علمی نشست دفتر تبليغات اسلامی كے ثقافتی اور تبليغی شعبے كی طرف سے مدرسہ فيضیہ (قم) میں منعقد كی گئی تھی۔
389058