بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی"ايكنا" كی رپورٹ كے مطابق مشہد سے ايرانی پارليمنٹ كے نمائندے " عفت شريعتی" نے گزشتہ روز مشہد میں مدرسہ علمیہ نرجس میں ايرانی اور غير ملكی طلباء كے ايك اجتماع سے خطاب كرتے ہوئے كہا كہ یہ انقلاب امام خمينی (رح) كی ميراث ہے اور انقلاب اسلامی ايران كی كاميابی كے ۳۰ سال گزر جانے كے باوجود بھی یہ انقلاب قرآن و اہل بيت (ع) كے اہداف پر گامزن ہے۔ جناب شريعتی نے كہا یہ انقلاب چوتھی دھائی میں قدم ركھ چكا ہے۔ انوہں نے كہا كہ انقلاب اسلامی كے اس پيشرفت كے سفر میں ايسے كچھ چيلنجز اور آفتوں كا بھی سامنا ہے كہ ان چيلنجوں میں سے ايك چيلنج ثقافت اور ذرائع ابلاغ ہے۔ مشہد سے ايرانی پارليمنٹ كے نمائندے نے كہا ہے كہ انقلاب اسلامی ايران كو سب سے بڑا خطرہ دشمن كا فريب اور مكاری ہے انہوں نے كہا كہ اسوقت ہماری ذمہ داری بڑی سنگين ہے كيونكہ دشمن نے باطل ہتھكنڈوں كے ذريعے حق پر پردہ ڈال ديا ہے۔ انہوںنے مزيد كہا كہ ہمیں حق و باطل كو پہچاننا چاہیے۔ اور دوسرے كو بھی اس سے آگاہ كرنا چاہیے۔ كيونكہ موجودہ دور میں سب سے اہم مسئلہ باطل شناسی ہے اور معاشرے كے مایہ ناز افراد كو اس میں پيش پيش ہونا چاہیے۔
418744