بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی" ايكنا" كے اعزازی نامہ نگار كی رپورٹ كے مطابق ۱۰ جون ۲۰۰۹ء كو آيت اللہ مكارم شيرازی نے مسجد اعظم قم میں اس سال كے اپنے فقہ كے آخری درس خارج میں اخلاقی موضوع پر گفتگو كرتے ہوئے اس حديث كا حوالہ ديا كہ اگر كوئی دنيا میں بھائی پيدا كرليتا ہے تو اس نے بہشت میں اپنے لئے ايك گھر پيدا كر ليا ہے۔ انہوں نے مزيد كہا كہ دينی بھائی وہ ہوتا ہے جو نيك كاموں میں اس كے ساتھ شريك ہو۔ انہوں نے كہا كہ ہمیں اچھے دوستوں كے انتخابات میں جوانوں كی رہنمائی كرنی چاہیے كيونكہ اچھا دوست انسان كی سرنوشت میں بہت زيادہ مؤثر ہے۔ آيت اللہ مكارم شيرازی نے كہا كہ اگر كوئی دوست كے انتخاب میں دقت سے كام نہ لے تو جب وہ اپنی غلطی كی طرف متوجہ ہو گا اس كے لئے واپس پلٹنا مشكل ہو جائے گا۔ انہوں نے طلاب اور علماء كرام كو تاكيد كی كہ وہ گرميوں كی چھٹيوں میں اپنا وقت ضائع نہ كریں بلكہ مطالعے كے ذريعے اپنی علمی كمزوريوں كو دوركریں۔
418900