بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی" ايكنا" نے روزنامہ " الشرق الاوسط" كے حوالے سے رپورٹ دی ہے كہ كوزوو كے مفتی نے كہا ہے كہ كوزوو كی حكومت خود مختار ہے ليكن اس میں اب تك اسلامی سرگرميوں اور مسلمانوں كے اجتماع كے لئے كوئی مناسب اسلامی مركز موجود نہیں ہے۔ نعيم ترنافا نے مزيد كہا كہ كوزوو كے دارالحكومت میں مسجد اور اسلامی مركز كی تعمير كے لئے ايك پلاٹ خريدا گيا ہے۔ انہوں نے كہا كہ اس مسجد میں ۱۲ ہزار نمازيوں كی گنجائش ہو گی۔ كوزوو كے مفتی نے كہا كہ كوزوو میں صرف ۲۴ مساجد ہیں اور یہ مساجد كوزوو كے مسلمانوں كی ضرورت كو پورا نہیں كرتیں اور جمعہ كے دن ۵۰ فيصد سے زيادہ مسلمانوں كو مساجد كے باہر نماز جمعہ ادا كرنا پڑتی ہے۔ نعيم ترنافا نے آخر میں كہا كہ اس وقت كوزوو میں مسلمانوں كو تقريباً ۳۰۰ مساجد كی ضرورت ہے۔
427699