قرآن كريم كی نگاہ میں قوم یہود كی پيدائش اور عاقبت كا جائزہ

IQNA

قرآن كريم كی نگاہ میں قوم یہود كی پيدائش اور عاقبت كا جائزہ

فكرگروپ: قوم یہود كی عاقبت كيا ہو گی؟ یہ ايك ايسا بنيادی سوال ہے جو صہيونيوں كی تقدير سے مربوط ہے اور حجۃ الاسلام والمسلمين ابوالفتح دعوتی نے اپنے ايك مضمون میں اس مسئلہ كے بارے میں مفصل تحقيق پيش كی ہے۔
بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی 'ايكنا" كی رپورٹ كے مطابق حضرت موسی علیہ السلام كے ذريعے نجات پانے والی اور خداوند متعال كی نعمتوں سے بہرہ مند ہونے والی قوم یہود اور بنی اسرائيل كے بارے میں قرآن كريم نے ان كی كچھ كمزوريوں كو بيان كيا ہے كہ انہوں نے غلط اور غير شائستہ اعمال انجام ديئے، بچھڑے كی پوجا كی اور الہی آيات كا انكار كيا نيز قسی القلب بن گئے اور بنی اسرائيل كے انبياء كو قتل كر ديا اور آخركار خداوند متعال كے غصب كا شكار ہو كر ذليل و خوار ہو گئے۔
پيغمبر اكرم(ص) كے دور میں یہودی آنحضرت(ص) كے سخت دشمن بن گئے اور مشركين قريش كے ساتھ مل كر اسلام كے خلاف جنگ كرتے رہے۔ انہوں نے جنگ خندق كی آگ بھڑكائی اور كئی مرتبہ مسلمانوں كے ساتھ جنگ كی ہے۔
قرآن كريم قوم یہود كے بارے میں فرماتا ہے: تم ديكھ رہے ہو كہ قوم یہود مسلمانوں كی سخت دشمن ہے۔ اس دور میں اسرائيل كے نسل پرست یہودی دنيائے اسلام كی دشمنی كا حقيقی مركز ہیں۔ آخر كار اس قوم كی عاقبت كيا ہو گی؟ اس سوال كا جواب مندرجہ ذيل مضمون میں موجود ہے جسے حجۃ الاسلام "سيد ابوالفتح دعوتی" نے تحرير كيا ہے۔
بغير كسی مقدمہ كے ياد دہانی كرواتے ہیں كہ قرآن كريم سورہ يوسف میں بنی اسرائيل كی پيدائش اور ان كی مصر كی طرف مہاجرت اور بنی اسرائيل كی بارہ نسلوں كی تاسيس كو بيان كر رہا ہے اور اولياء الہی كے حالات كو بيان كرتا ہے اور اگر تاويل كی نگاہ سےديكھیں تو یہ مسئلہ امامت كو بيان كر رہا ہے اسی وجہ سے قرآن كريم كی بارہویں سورہ ہے اور قرآن كريم كے بارہویں سپارے میں واقع ہے۔ بارہ شخصيات كے بارے میں گفتگو كرتا ہے اور آخر كار غيبت كے كنویں سے يوسف كی امامت كے طلوع اورعظيم حكومت كا ظہور اور يوسف كے سامنے اس وقت كے بادشاہ اوراسكے دوستوں كے سرتسليم خم ہونے كو بيان كرتا ہے كہ یہاں پر تفصيل كی گنجائش نہیں ہے۔
سورہ يوسف كے مقابلے میں سورہ اسراء ہے كہ جس میں بنی اسرائيل كے انحراف اور سرزمين موعود میں ان كے استكبار اور فساد كی خبر ديتا ہے ان كے وعدہ كی خلاف ورزيوں اور آخركار ان پر نازل ہونےوالے خدا كے قہروغضب اور زوال كے ساتھ خاتمے كی خبر ديتا ہے انكی خلاف اور انكے ظلم وفساد كی وجہ سے یہی سر زمين موعود ان كی ہلاكت اور لعنت كی سر زمين میں تبديل ہو جائے گی اور ان كی تقدير ابليس كی تقدير كے مشابہ ہو گی كہ جس نے الہی نعمتوں كی قدر نہ كی اور طغيان اور غرور و تكبر كا راستہ اپنا ليا اور دنيا و آخرت میں مردود ہو گيا جيسا كہ سورہ بقرہ میں ابليس كے حالات كو بيان كرنے اور اس كے الہی بارگاہ سے مردود ہونے كے بعد بنی اسرائيل كے استكبار اور دشمنی كو بيان كرتا ہے كہ یہ وہی مجسم شيطان اور معروف دجال ہے۔
سورہ اسراء كا دوسرا نام بنی اسرائيل ہے جو قرآن كريم كی نہايت ہی عجيب و غريب سورتوں میں سے ہے اور اس میں كئی اہم نكات بيان ہوئے ہیں جو كہ مندرجہ ذيل ہیں۔
پيغمبر اكرم(ص) كی سرزمين موعود میں آمد
خداوند كريم اس سورہ كی پہلی آيت جو "سبحان" سے شروع ہوتی ہے میں پيغمبر اكرم (ص) كی مسجد الحرام سے مسجدالاقصی تك كی سير كو بيان كرتا ہے جس كا خلاصہ كچھ اس طرح ہے كہ خداوند متعال اپنے پيغمبر كو توحيد ابراہيمی كے مركز يعنی سرزمين مكہ سے انبياء كے موعود كی سرزمين كی جانب سير كرواتا ہے اور در حقيقت یہ ان دونوں الہی مراكز میں پيغمبر اكرم(ص) كی حاكميت كو بيان كرتا ہے اور جيسا كہ معراج سے مربوط احاديث سے ظاہر ہوتا ہے كہ تمام انبياء كی ارواح پيغمبر اكرم(ص) سے ملاقات كرتی ہیں اور آنحضرت(ص) كی امامت اور رسالت كو تسليم كرتی ہیں اور اسی سرزمين موعود میں امت واحد كی تاسيس ہوتی ہے اور تمام انبياء پيغمبر اكرم(ص) كی امامت و حاكميت كے سامنے سرتسليم خم كرتے ہیں كہ جو امت واحدہ اور امت اسلام و توحيد كی وحدانيت كی تاسيس پر دليل ہے۔
بنابریں اس سورہ مباركہ كی آيت میں اس سرزمين موعود میں عدل الہی كی حكومت كے ظہور كی بشارت دی گئی ہے اور یہ مبارك سرزمين پيغمبر اكرم(ص) كے توسط سے فتح ہوئی ہے اور پيغمبر(ص) اور ان كے جانشين اس سرزمين موعود كے وارث ہیں۔
عدل وعبوديت كی حاكميت كے لئے توريت كا نزول
قرآن كريم نے اس سورہ مباركہ كی دوسری آيات میں حضرت موسی(ع) كی رسالت كوبيان كيا ہے اور فرماتا ہے كہ خداوند متعال نے جناب موسی (ع) كو نبوت پر مبعوث كر كے ان پر كتاب توريت كو نازل كيا اور اسے بنی اسرائيل كی ہدايت كا ذريعہ قرار ديا ہے تاكہ وہ الہی شريعت كو قائم كریں اور توريت كے احكام پر عمل كریں اور خداوند متعال كو اپنا مولی اور كارساز قرار دیں۔(۱۴۴۷۔ ق۔م)
سرزمين موعود میں فساد و تباہی
قرآن كريم اس سورہ مباركہ كی تيسری آيت میں فرماتا ہے كہ بنی اسرائيل لطف الہی كے سائے اور سليمان اورداؤد جيسے انبياء كے ساتھ اس سرزمين موعود میں داخل ہوئے(۹۵۰۔ ق۔م) ليكن احكام الہی كے قيام كی بجائے استكبار و برتری اور تباہی و فساد پھيلانے لگے اور اسی سرزمين پر دو مرتبہ بہت بڑے ظلم و ستم كرنے پر اتر آئے اور نعمت حكومت و سيادت كا پاس نہ كيا اور پھر فرماتا ہے كہ ہم نےانبياء كے ذريعے انہیں خطرے سے آگاہ كيا تھا اور ان كے ظلم وستم پر انہیں ہلاكت و قہروغضب كا وعدہ ديا تھا اور انہیں ان كی خطرناك عاقبت كے بارے میں ڈرايا تھا۔
بابل كی جيل میں قوم یہود كی گرفتاری و ہلاكت
پھر قرآن كريم نے اس سورہ كی چوتھی آيت میں بنی اسرائيل كی پہلی ہلاكت كی خبر دی اور فرماتا ہے كہ جب ان كے پہلے ظلم و فساد كے بعد بنی اسرائيل كی ہلاكت كا وعدہ متحقق ہوا تو ہم نے اپنے سخت اور خطرناك بندوں (بخت النصر اور اس كے لشكر والوں) كو ان پر مسلط كر ديا جنہوں نے ہر شہر میں ان كا پيچھا كرتے ہوئے انہیں قتل كر ڈالا یہ ايك وعدہ ہے جو بنی اسرائيل كے كفروفساد اور دشمنی كے نتيجے میں متحقق ہوا تھا۔ (۶۰۸۔ ق۔م)
معبد سليمان كی عمارت كی تجديد اور رجعت
قرآن كريم (تاريخی لحاظ سے بابل كے بادشاہ بخت النصر كے توسط سے) بنی اسرائيل كی ہلاكت اور سرزمين موعود سے ان كے نكلنے كو بيان كرنے كے بعد بنی اسرائيل كی دوبارہ حيات اور رجعت كے بارے میں خبر ديتا ہے اور فرماتا ہے كہ ہم نے ايك مرتبہ پھر تمہیں نعمتوں سےمالا مال كيا اور تمہیں عظمت وشريعت عطا كی اور ايك جوان نسل اور ديگر نعمتوں كے ذريعے تمہاری مدد كی اور تمہیں صاحب اقتدار بنايا یہ اشارہ ہے اس واقع كی طرف كہ جب بنی اسرائيل نے ستر سال كی قيد كے بعد بابل كی جيلوں سے نجات پائی تھی يعنی بخت النصر كے توسط سے ہلاك ہونے كے بعد ايرانی بادشاہ كوروش ھخامنشی كے توسط سے تين نسل اور ہيكل سليمان كی عمارت كی دوبارہ تعمير اور شريعت موسی(ع) كا دوبارہ احياء اور توريت كی دوبارہ تدوين ہوئی۔
اور جيسا كہ آپ جانے ہیں كہ امامت و ولايت كی رجعت سے مربوط احاديث كو بھی اسی آيت كے ذيل میں ذكر كيا گيا ہے كہ امت اسلام كی رجعت اس آيت كی تاويل سے ثابت ہوتی ہے۔ بہرحال قرآن كريم بنی اسرائيل كی رجعت اور ان كی دوبارہ حاكميت كے آنے كی خبر ديتا ہے۔
بنی اسرائيل كا دوسرا فساد
اس كے بعد قرآن كريم بنی اسرائيل كے ايك اور فساد كی خبر ديتا ہے جو اس رجعت كے بعد واقع ہوا ہے اور ہم جانتے ہیں كہ بنی اسرائيل كے اس فساد اور تباہی سے ان كی روم اور يونانی ثقافت كی طرف رغبت كی طرف اشارہ ہے كہ بنی اسرائيل كے حكام روم حكومت كی طرف مائل ہو گئے اور شريعت موسی(ع) كو لغو كر ديا اور روميوں كے آداب و رسوم اور بتوں كی طرف مائل ہو گئے اور روميوں كی فاسد ثقافت كی پيروی كرتے ہوئے حضرت يحيی(ع) اور حضرت ذكريا(ع) كو قتل كر ديا اور حضرت عيسی(ع) كی رسالت اور حاكميت شريعت كا انكار كر ديا بنا برایں حضرت عيسی(ع) كی لعنت او روميوں كے توسط سے دوسری بڑی ہلاكت سے دوچار ہو گئے اور قيصر سے دوستی نے انہیں كوئی فائدہ نہ پہنچايا۔
قرآن كريم اس دور كے بارے میں فرماتا ہے كہ جب تمہاری ہلاكت كا دوسرا وعدہ متحقق ہوا اور تم نے دوبارہ ظلم و فساد كا بازار گرم كيا، تمہارے چہرے سياہ ہو گئے يعنی تم نے رومی ثقافت كو اپنا ليا اور الہی شريعت كو ترك كر ديا اور اس كی جگہ پر تم نے ہوا ہوس كی پيروی اور ظالم اور ستمكار حكام كی اطاعت شروع كر دی۔ قرآن كريم نے بنی اسرائيل كے اس دور كے حكام كو "عبدہ طاغوت" اور قيصروكسری كی پوجا كرنے والوں كا نام ديا ہے۔
بہرحال اس دور میں خداوند متعال نے ايك مرتبہ پھر اپنے بندوں سے كچھ بندوں كو بنی اسرائيل كی ہلاكت اور ان پر قہرو غضب نازل كرنے كا حكم ديا اور فرماتا ہے كہ یہ لوگ سرزمين موعود اور ہيكل سليمان میں داخل ہو گئے جيسا كہ بخت النصر سرزمين موعود میں داخل ہوا تھا۔
"وليتبرواما علو اتتبيرا" اور جو كچھ تم نے بنايا ہوا اور مہيا كيا ہوا تھا اسے ايسے تباہ كيا جيسا كہ تباہ كرنے كا حق ہے" كہ پہلی مرتبہ بابل كی ثقافت كی طرف مائل ہو گئے اور خداوند كريم نے اسی بابل كو ان كے لئے قيد خانہ بنا ديا اور دوسری مرتبہ روم اور قيصر كی ثقافت كی طرف مائل ہو گئے تو خداوند متعال نے قيصر كے ہاتھوں ان كو ہلاك كيا اور ان كے بتوں كو ان كی جان كے درپے بنا ديا۔ (۷۰م)
رحمت ومغفرت كا وعدہ
قرآن كريم اپنے حكيمانہ كلام میں بنی اسرائيل كی ان دو ہلاكتوں كو ذكر كرنے كے بعد فرماتا ہے كہ بنی اسرائيل كی ان دونوں ہلاكتوں اور ان پر مختلف قسم كے عذاب كا نزول اس وجہ سے تھا كہ یہ لوگ جان لیں كہ طاغوت كی عبادت اور شريعت سے دوری ان كے لئے فائدہ مند نہیں ہے اور آخركار انہیں ذليل وخوار كر دے گی شايد كہ ان دو ہلاكتوں اور دو عظيم نقصانات كے مشاہدہ سے یہ لوگ توبہ كرلیں اور خداوند كريم كا لطف وكرم ان كے شامل حال ہو جائے اور طاغوت كی عبادت اور ظالموں كی اطاعت سے نااميد ہو جائیں۔ درحقيقت قرآن كريم فرما رہا ہےكہ یہ لوگ ہدايت كا راستہ اختيار كر لیں اور تمام لوگوں كی طرح خدا كی رحمت اور عبودت میں داخل ہو جائیں اور بتوں كی پوجا سے اجتناب كریں۔
اس كے بعد قرآن كريم خبردار كرتے ہوئے فرماتا ہے كہ یہ لوگ پھر بھی متنبہ نہ ہوئے اور رحمت الہی میںداخل نہ ہوئے اور ہم جانتے ہیں كہ رحمت الہی كے اس وسيع باب سے مراد پيغمبر اكرم(ص) كی رسالت تھی تاكہ یہودی اپنی ذات اور خواری كے سابقہ سے عبرت حاصل كرتے ہوئے ديگر تمام لوگوں كے ہمراہ اس پيغمبر پر ايمان لے آئیں اور حضرت داؤد، حضرت سليمان كے ساتھ اپنائے ہوئے سلوك اور حضرت عيسی(ع) كو جھٹلانے اور انبياء كے قتل سے توبہ كرتے ہوئے پيغمبر اكرم(ص) پر ايمان لے آئیں اور اپنے تاريخی سياہ دھبے كو دھو ڈالیں ليكن انہوں نے اس فرصت سے بھی استفادہ نہ كيا اور ايك مرتبہ پھر طغيان، فساد و تباہی كا تكرار كرنے لگے اور اس دور كے سفيانی، ابوسفيان كے ساتھ مل گئے ليكن پيغمبر خدا(ص) سے نہ ملے۔
قرآن كريم اس بارے میں فرماتا ہے كہ البتہ بنی اسرائيل اور قوم یہود ايك مرتبہ پھر اس سرزمين پر واپس پلٹیں گے اور پھر ظالم اور استكبار لوگوں كے ہمراہ اس سرزمين میں داخل ہوں گے اور سرزمين پر ظلم و ستم اور فساد و تباہی كا بازار گرم كریں گے اس بارے میں قرآن كريم فرماتا ہے " وَقُلْنَا مِنْ بَعْدِهِ لِبَنِی إِسْرَائِيلَ اسْكُنُوا الأرْضَ فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ الآخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِيفًا) اور جب تمہاری ہلاكت كا آخری وعدہ پہنچا تو ہم نے اپنی معين اور حتمی تقدير كی بنا پر اس كے بعد كہ تم نے توبہ نہ كی تو تمہیں آخری بار ہلاك كرنے كے لئے اس سرزمين كی طرف روانہ كریں گے كہ یہ " وعدہ الآخرۃ" قوم یہود كی آخری ہلاكت ہے كہ جو اسی سرزمين موعود اور اسی نعمتوں اور عزت والی سرزمين پر ان كے دامن گير ہو گی اور ان كے لئے سرزمين نعمت كو سرزمين عذاب میں اور بركت كے مقام كو لعنت كے مقام میں تبديل كر ديا جائےگاجيسا كہ شاہ ايران نے بھی اپنی ہلاكت تخت جمشيد كے ذريعے ہی ديكھی كہ جو اس كے خاندان كی عزت و نعمت كا مقام تھا اور سرزمين نعمت اس كے لئے سرزمين عذاب میں تبديل ہو گئی۔
قرآن كريم سورہ بنی اسرائيل كی آٹھویں آيت میں بنی اسرائيل كی آخری ہلاكت كے بارے میں فرماتا ہے "عسی ربكم ان يرحمكم و ان عدتم عدنا و جعلنا جھنم للكافرين حصيرا" اميد ہے كہ تمہارا پروردگار تم پررحم كرے ليكن اگرتم نےدوبارہ فساد كيا تو ہم پھر سزا دیں گے اور ہم نے جہنم كو كافروں كے لئے ايك قيد خانہ بنا ديا ہے۔ یہ آيت بنی اسرائيل كے خاتمے كی خبر دے رہی ہے اور ايك واضح علامت قرار دے كر قرآن كريم فرماتا ہے كہ آئندہ دور میں اس سرزمين میں یہوديوں كا دوربارہ جمع ہونا قوم یہود كے زوال اور ہلاكت كی علامت ہے ان كے فتنہ و فساد و تباہی كو ہميشہ كے لئے ختم كر ديا جائے گا اور وہ اس سرزمين میں اپنی ہميشہ كے لئے ہلاكت كے لئے جمع ہوں گے۔
قرآن كريم پھر فرماتا ہے كہ اس آخری مرتبہ قرآن كريم كی ہلاكت قوم یہود كا پيچھا كرے گی جبكہ پہلی دو مرتبہ دوسروں نے قوم یہود پر عذاب نازل كيا تھا جبكہ اس مرتبہ خود خداوند متعال ان پرعذاب نازل كرے گا يعنی یہوديوں كی ہلاكت خداوند كريم كے صالح بندوں كے ہاتھوں واقع ہو گی اور مومنين، یہوديوں كو جڑوں سے اكھاڑ پھينكیں گے كہ پھر دوبارہ اٹھ نہ سكیں گے۔
فلسطين میں یہوديوں كے اجتماع كا سبب ان كی ہلاكت ہے
تاريخی اعتبار سے اگر ديكھیں تو معلوم ہوتا ہے كہ حضرت عيسی(ع) كو جھٹلانے كے بعد اور پھر حضرت عيسی(ع) كے ان پر لعنت كرنے كے بعد كہ اس مقدس سرزمين سے نكل جاؤ تاكہ عذاب الہی سے دوچار نہ ہو جاؤ اس وقت رومی طيطوس كے حملوں كا شكار ہو گئے اور قيصر كی دوستی دشمنی میں تبديل ہو گئی اور طيطوس اور اس كے ساتھيوں نے یہوديوں كا قتل عام كيا اور باقی بچے ہوئے افراد كو فلسطين سے نكال باہر كيا اور یہودی مختلف ممالك میں چلے گئے اور اس تاريخ سے یہوديوں كے آوارہ ہونے كا آغاز ہوتا ہے ۔ بنی اسرائيل كی یہ ذلت اور عذاب ان كی ہی دوسری ہلاكت ہے كہ جسے قرآن كريم بيان كر رہا ہے جو ۷۰ء میں رونما
ہوئی تھی۔
قوم یہود كی ان دو ہلاكتوں كے بعد قرآن كريم فرماتا ہے كہ حضرت عيسی(ع) كی لعنت كے بعد جب بھی بنی اسرائيل دوبارہ اس سرزمين میں داخل ہوئی تو یہ ان كی آخری ہلاكت اور آخری عذاب ہو گا۔ در حقيقت اگرچہ ظاہری طور پر لندن،پيرس اور ماسكو نے یہوديوں كو اس سرزمين مقدس میں آباد كيا ہے ليكن درحقيقت یہ الہی تقدير كا فيصلہ ہے كہ انہیں اس سرزمين میں داخل كرے تاكہ انہیں دنيا والوں كی آنكھوں كے سامنے ذليل وخوار كرے اور ان كے مظالم كو آشكار كرے تاكہ قيامت تك دوسروں كے لئے عبرتناك درس بن جائیں۔
قابل غور بات ہے كہ آئمہ اہل بيت(ع) سے نقل ہونے والی احاديث آخری زمانے كے واقعات اور حوادث كو اس آيت كے ذيل اور اس كی تفسير و تاويل میں ذكر كيا گيا ہے۔ جيسا كہ تفسير " برہان" میں امام حسن عكسری(ع) سے منقول ہے كہ آپ(ع) نے فرمايا: " ان عدتم بالسفيانی عدنابالقائم" اے جماعت یہود اگر سفيانی حمايت میں دوبارہ اس سرزمين میں داخل ہوئے تو ہم قائم آل محمد(ص) كے ذريعے تمہاری ہلاكت اور تمہارے زوال كے اسباب فراہم كریں گے۔ اس تفسير میں سفيانی اور قوم یہود آل محمد(ص) كی كريمانہ حكومت كے مقابلے میں واقع ہوں گے۔
آخری زمانے میں حكومت یہود
اگرہم سورہ اسراء كی اٹھویں آيت میں نگاہ كریں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے كہ قرآن كريم اگرچہ حضرت عيسی(ع) كے جھٹلانے اور حضرت عيسی(ع) كے توسط سے ان پر لعنت كے بعد اسرائيل كے شہروں كی تباہی كی خبر ديتا ہے قرآن كريم پھر فرماتا ہے كہ البتہ یہودی ايك مرتبہ پھر اس سرزمين میں واپس پلٹیں گے اور اگر ہم تاريخ كا مطالعہ كریں تو پتہ چلتا ہے كہ یہودی فقط 1948ء میں اس سرزمين میں آئے اس سے پہلے اس سرزمين میں داخل نہیں ہوئے تھے اور زمانے كے طاغوت برطانیہ كے سفيانيوں نے انہیں اس سرزمين میں داخل كيا ہے اور انہیں كے ذريعے ان ظالموں كی حكومت كی بنياد ركھی گئی ہے۔
بنابرایں قرآن كريم میں یہوديوں كی فلسطين میں بازگشت اور ايك یہودی حكومت كی تشكيل كا واقعہ ملتا ہے اور آخری زمانے كے واقعات میں سے یہودی حكومت كی تشكيل كا ايك حتمی اور يقينی واقعہ ہے كہ قرآن كريم فرماتا ہے كہ ہم نے اعلان كيا ہے كہ بنی اسرائيل دوبارہ اسی سرزمين موعود اور سرزمين داود میں ظلم و فساد كریں گے اور دونوں مرتبہ عذاب الہی سے دوچار ہوں گے۔ نيز ہم نے اعلان كر ديا ہے كہ اگر آخری زمانے میں دوبارہ اس سرزمين موعود میں داخل ہوئے جبكہ داود اور عيسی بن مريم كے توسط سے مورد لعنت واقع ہوئے ہیں تو اس وقت سخت عذاب ان پر نازل ہو گا كہ ہميشہ كے لئے یہ فتنہ ختم ہو جائے گا اس آيت "وان عدتم عدنا" میں بہت مختصر طور پر چند نكات كی طرف اشارہ ضروری ہے۔
۱۔ آخرالزمان میں قوم یہود دوبارہ اس سرزمين میں داخل ہو گی۔
۲۔ اس سرزمين موعود پر قوم یہود كی مہاجرت آہستہ آہستہ اور تدريجی طور پر ہو گی "لفيفأ"
۳۔ یہ لوگ اس سرزمين پر دوبارہ فساد و تباہی پھيلائیں گے اور اپنے سابقہ ظلم و فساد كی طرف پلٹ جائیں گے۔
۴۔ يروشلم میں یہودی كی واپسی اس علاقے سے مسلمانوں اور ديگر اقوام كے نكلنے كا باعث بنے گی۔
۵۔ سرزمين قدس پر قوم یہود كا غلبہ امت اسلام كے اختلافات اور كمزور ہونے كا باعث بنے گا اسلام كا آفتاب غروب كرے گا اور یہودی آفت ترقی كرے گی۔
۶۔ اس سرزمين میں ان كا پروگرام اسلام سے دشمنی ہو گا " اشد الناس عداوۃ"
۷۔ وہ طاغوت كے چيلوں، عبدہ طاغوت اور ظالم اور مستكبرين لوگوں كی خدمت كرتے ہوئے اس سرزمين میں داخل ہوں گے۔
۸۔ سرزمين قدس میں قوم یہود كا ظلم وستم اور قبضہ مسلمانوں كے درميان اتحاد و وحدت اور ان كی بيداری كا باعث بنے گا اور آخر كار امت اسلام دوبارہ صاحب اقتدار و عزت ہو جائے گی اور رجعت اسلام شروع ہو گی۔
۹۔ ہماری احاديث میں سرزمين قدس اور مسجد الاقصی میں حكومت یہود كے قيام كو دجال كے واپس پلٹنے اور سفيان كے ظہور سے تعبير كيا گيا ہے كہ دجال یہودی اور سفيانی عالمی استكبار ہے۔
۱۰۔ سرزمين مقدس میں سفيانی اور دجال حكومت كا قيام،كفر و استكبار و ظلم و فساد كی عظيم ترين تجلی ہو گا اور مومنين كی رجعت سے معلوم ہوتا ہے كہ دجال اور سفيانی كی حكومت انتہائی عروج پر ہو گی۔
۱۱۔ دجال و سفيانی كے اس بہت بڑے ظلم و فساد كے جواب میں خداوند متعال پر ايمان و انصاف كا ظہور عظيم ترين صورت میں ہو گا آخر الزمان سے مربوط احاديث میں اسے عيسی(ع) اور امام مہدی(عج) كے ظہور اور حاكميت اسلامی اور حقيقی پيشواؤں كی امامت كی بازگشت سے تعبير كيا گيا ہے۔
۱۲۔ دجال اور سفيانی كے مظالم كا الہی جواب ايك عمومی قيام اور زمينی اور آسمانی حوادثات كے تحت واقع ہو گا۔
قرآنی شواہد
قرآن كريم كے كئی مقامات پر قوم یہود كے اس عظيم فساد كی طرف اشارہ كيا گيا ہے اور ان دو ہلاكتوں كے سبب كو بيان كيا گيا ہے جو مندرجہ ذيل ہے " لعن الذين كفرو"۔۔۔۔۔۔
ظالموں كی جماعت اور بنی اسرائيل كے بعض كفار پر دو مرتبہ لعنت كی گئی ہے ايك مرتبہ حضرت داؤد كے زمانے میں حضرت داؤد كی زبان سے كہ جنہوں نے حكومت یہود كی بنياد ركھی تھی اور یہود كے ظالم لوگوں پر اس حكومت كے بانی نے لعنت كی تھی اور اس وقت بخت النصر كے عذاب سے دو چار ہو گئے اور دوسری مرتبہ حضرت عيسی(ع) نے یہود كے ظالم لوگوں پر لعنت كی تھی تو طيطوس كے ہاتھوں عذاب سے دوچار ہو گئے اس دور میں بھی یہودی ظالم مومنين كی لعنت كے مستحق قرار پائے ہیں
ايك اور مقام پر قرآن كريم ان كے طغياں اور عصيان كے بارے میں سورہ مائدہ میں فرماتا ہے كہ ہم نے بنی اسرائيل سے عہد ليا تھا كہ وہ انبياء پر ايمان لائیں اور ان كی مدد كریں۔ ليكن طول تاريخ میں وہ پيغمبروں كے مقابلے میں آ گئے اور اپنے عہدوپيمان كو توڑتے رہے اور سخت عذاب میں مبتلا رہے بنابرایں " فعموا وصموا" پس وہ اندھے اور بہرے ہو گئے اور حضرت موسی(ع) كی شريعت سے دور ہو گئے۔ حضرت سليمان اور داؤد كے بعد كہ یہ بنی اسرائيل كا پہلا فساد تھا مرحوم علامہ طباطبائی بھی فرماتے ہیں۔ پس خداوند متعال نے ان كی توبہ قبول كر لی اور وہ دوبارہ شريعت كی طرف پلٹ آئے اور خداوند نے توريت، حكومت اور ان كے قبلہ كو ان كی طرف پلٹا ديا۔
اس كے بعد پھر وہ اندھے، بہرے ہو گئے اور شريعت سے دور ہو گئے جو واقعہ حضرت عيسی(ع) ذكريا(ع) اور يحيی(ع) كے دور میں واقع ہوا جو كہ بنی اسرائيل كا دوسرا فساد ہے اور اس مرتبہ انہیں طيطوس كے توسط سے عذاب میں مبتلا كيا گيا یہ فساد اور ظلم سنت الہی كی بنا پر بہت عظيم اور گہرے فساد و تباہی كا باعث بنتا ہے۔ " ازدادوا كفرا" كفر اور عصيان كے آخری درجے پر ہوں گے اور یہاں پر ہے كہ آخری عذاب نازل ہو گا اور اس وقت قوم یہود كے ظالم لوگ اس حد تك پہنچ چكے ہیں اور ان كے آخر عذاب كا وقت آ پہنچا ہے اور اس كے اسباب و شرائط مہيا ہو چكے ہیں۔
ہم خداوند متعال سے دعا كرتے ہیں كہ خداوند اسرائيل كے زوال كو اسلامی انقلاب ايران كا انعام قرار دے اور ملت فلسطين كی اسارت اور یہودی حكومت كی تاسيس كے ۷۰ ویں سال میں اس حكومت كا قلع قمع كر كے مومنين كے دلوں كو شاد كر دے۔ جيسا كہ حضرت امام خمينی نے فرمايا تھا كہ اسرائيل كو ختم ہو جانا چاہیے اور ہمیں اس نعرے كو عالمی نعرے میں تبديل كرنا چاہیے اور "مردہ باد اسرائيل" كے نعرے كو پوری دنيا میں عملی جامہ پہنانا چاہیے۔
466053