بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" كی رپورٹ كے مطابق ۷ اكتوبر ۲۰۰۹ء كو مسجد اعظم(قم) میں اپنے فقہ كے درس خارج كے آغاز میں كہاہے كہ اسرائيل اسلامی ممالك كے اختلاف سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بيت المقدس كو اپنے قبضے میں لينا چاہتا ہے۔
انہوں نے كہا كہ یہ بات مسلمانوں كے لئے ننگ و عار نہیں ہے كہ بيت المقدس پر اسرائيل قبضہ كرے؟
آيت اللہ العظمی مكارم شيرازی نے اسرائيل كے ساتھ معاہدے كرنے والے اسلامی ممالك كو خطاب كر كے كہا آج اسرائيل بيت المقدس پر قبضہ كرنے كے منصوبے تيار كررہا ہے اور ايك دن وہ اپنے اتحادی مسلمان ممالك پر بھی قبضہ كرنے كی كوشش كرے گا۔
آيت اللہ مكارم نے اس امر پر افسوس كا اظہار كيا كہ دشمن مسلمانوں كے آپس كے اختلافات سے سوء استفادہ كر رہا ہے۔
475523