بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" كی رپورٹ كے مطابق يونيورسٹی كی پروفيسر اور تربيت مدرس يونيورسٹی كی خواتين كے مطالعاتی گروپ كے سربراہ كا غروی نائينی نے فلپائن میں مقيم ايرانی طلباء كے اجتماع سے خطاب كرتے ہوئے كہا ہے كہ جو چيز قرآنی آيات، تاريخی شواہد اور اوائل اسلام كے معاشرے كے واقعات سے استفادہ ہوتی ہے وہ یہ ہے كہ ولی امر سے مراد حضرت اميرالمومنين علی علیہ السلام كی ذات گرامی ہے۔
انہوں نےمزيد كہا كہ خداوند متعال فرماتا ہے: اے ايمان والو كافروں كو اپنا ولی قرار نہ دو۔ اس آيت میں "اولياء" سے مراد فقط دوستی نہیں ہے بلكہ سرپرستی اور ولايت كے معنی میں ہے كيونكہ خداوند متعال نے ايك دوسرے مقام كو كلمہ "حب" كو دوستی كے معنی میں قرار ديا ہے۔
479555