سورہ حج كی آيت نمبر ۲۸ میں حج كے فوائد اور فلسفہ كا جائزہ

IQNA

سورہ حج كی آيت نمبر ۲۸ میں حج كے فوائد اور فلسفہ كا جائزہ

فكر گروپ: خداوند متعال سورہ مباركہ حج كی آيت نمبر ۲۸ میں حضرت ابراہيم (ع) كی زبان سے اس سنت كی تشريح كے بعد مشاہدہ منافع كو حج كا فلسفہ اور اس كا ايك ہدف شمار كرتا ہے اس آيت كريمہ میں لفظ "منافع" مطلق طور پر بيان ہوا ہے جو حج كے ثقافتی، سياسی، اخلاقی اور سماجی جيسے موضوعات پر پہلوؤں كو شامل ہو سكتا ہے۔
خداوند متعال سورہ مباركہ حج كی آيت نمبر ۲۸ میں فرماتا ہے: "ليشھدوا منافع لھم ويذكروا اسم اللہ فی ايام معلومات علی مارزقھم من بھيمۃ الأنعام فكلوا مينھاوأطعموا البائس الفقير" تاكہ وہ اپنے منافع كا مشاہدہ كریں اور معلوم دنوں میں بے زبان چوپايوں پر اللہ كا نام لیں جو ان كے لیے روزی قرار ديئے گئے ہیں پس ان میں سے خود كھاو اور فقيرا اور بھوكے لوگوں كو كھلاؤ۔
یہ آيت كريم پہلے والی آيت كا تسلسل ہے كہ جس میں حضرت ابراہيم علیہ السلام نے حج كی تشريح كی ہے اور یہ آيت حج كے فلسفہ كو بيان كر رہی ہے۔ جملہ "ويذكروا اسم اللہ" اس جملے "يشھدوا منافع لھم" پر عطف ہے اور یہ دونوں جملے اس سے پہلے والے جملے "وأذان فی الناس بالحج" كی غايت اور سبب قرار ديئے گئے ہیں اور یہاں سے یہ مطلب معلوم ہوتا ہے كہ حج كے دو پہلو ہیں "عبادی" اور "غير عبادی"
یہاں پر جو سوال پيدا ہوتا ہے وہ یہ ہے كہ "يشھدوا منافع لھم" میں لوگوں كے لیے منافع كا مشاہدہ كرنے سے كيا مراد ہے؟ كہ جيسے حج كے پہلے فلسفہ كے طور پر بيان كيا گيا ہے۔
حضرت امام رضا علیہ السلام نے اس لفظ منافع كی وضاحت كرتے ہوئے فرمايا "۔۔۔۔۔ مع مافی ذلك لجميع الخلق من المنافع لجميع من فی شرق الارض و غربھا ومن فی البروالبحر ممن يحج وممن لم يحج۔۔" حج كے منافع تمام اہل زمين مشرق و مغرب، سمندر اور خشكی كو شامل ہیں خواہ جو حج كو انجام ديتے ہیں خواہ جو انجام نہیں ديتے۔
"منفعت" كے وسيع ہونے كے پيش سوال یہ ہے كہ یہ كونسے منافع ہیں حتی كہ جو لگ حج سے مشرف نہیں ہوتے ان كو بھی شامل ہیں؟ لفظ "منافع" كسی قيد كے بغير مطلق ذكر ہوا ہے اور ہر قسم كی منفعت كو شامل ہے اور كسی كو حق نہیں پہنچتا كہ وہ بغير كسی دليل كے ان منافع كو كسی خاص پہلوؤ میں محدود كرے۔
اس آيت میں ايك طرف "ليشھدوا" كی تعبير ہے كہ یہ "لام" علت ہے یہ غايت يعنی "أذن فی الناس بالحج ياتوك۔۔۔۔۔يشھدوا منافع لھم" اس معنی میں ہے كہ اپنے منافع كو ديكھنے كے لیے آئیں، يا كہو آئیں تاكہ اپنے منافع كا مشاہدہ كریں، دوسری جانب "منافع" كی تعبير استعمال كی ہے اور اسے جمع ذكر كيا ہے يعنی اس دائرہ وسيعی ہے۔ بنا بریں اس كے بارے میں مختلف نظريات قائم ہو سكتے ہیں۔
مرحوم طبرسی اپنی تفسير مجمع البيان میں ابن عباس اور سعيدبن جبير سے نقل كرتے ہیں كہ یہ آيت فقط ايام حج میں تجارت اور فقراء كو انفاق جيسے دينوی منافع پر ناظر ہے۔ وہ اس قول پر دليل پيش كرتے ہیں كہ سورہ مباركہ بقرہ كی آيت شريفہ فرماتی ہے" ليس عليكم "جناح" ان بتفوا فضلاً من ربكم" ان كی نظر كے مطابق یہ آيت حج كے بنيادی ترين ركن يعنی عرفات كے بارے میں نازل ہوئی ہے اور اس سے مراد يقيناً مالی فضل ہے نہ معنوی كيونكہ فضل كے لیے حج میں اذن اور اجازت كی ضرورت نہیں ہے۔ مجمع البيان نے سعيد بن مسيب وعطیہ عوفی جيسے تابعين سے نقل كرتے ہیں كہ یہ منافع عفوومغفرت جيسے فقط اخروی منافع كو شامل ہیں۔ اس نظریے كی دليل ممكن ہے الہی مغفرت اور عفو كا ظہور ہو جس كا حج كے لیے وعدہ ديا گيا ہے۔
سابقہ اور موجودہ اكثر مفسرين كی صحيح البتہ مجمع البيان اور الميزان كی رائے بھی یہ ہے كہ آيت دينوی اور اخروی منافع دونوں كو شامل ہے تفسير نمونہ كے مولف اس بارے میں لكھتے ہیں یہ تعبير تمام معنوی اور مادی منافع انفرادی، سماجی، سياسی، معاشی اور اخلاقی فلسفہ كو شامل ہے۔ اور اس كی سب سے عمدہ دليل وہ اطلاق اور لفظ كا مطلق ہونا ہے كہ جو آيت میں موجود ہے اور وہ دينوی اور اخروی منانع سے مقتيد نہیں ہے۔
علامہ طباطبائی اس آيت شريفہ میں منافع سے مقصود كے بارے میں لكھتے ہیں منافع كی دو قسمیں ہیں۔ ايك دينوی منافع ہیں جن سے انسان كی زندگی مضبوط ہوتی ہے اور انسانی ضرورتوں كو پورا كرتے ہين ان منافع میں سے تجارت، سياست، ولايت، تدبير، آداب وعادات، رسوم وسنن، سماجی تعاون وغيرہ ہیں۔
دوسرے اخروی منافع ہیں كہ وہی قرب الہی كے مقام تك پہنچنا ہے جو حج كے سفر كے دوران، مناسك حج، طواف، نماز،قربانی، انفاق، صيام، زندگی كی لذتوں كو ترك كرنا، مشكلات كو برادشت كرنا وغيرہ كی صورت میں متحقق ہوتا ہے۔
حج میں موجود بے شمار منافع كے پيش نظر اسے حج كے مختلف پہلووں سے تعبير كيا جا سكتا ہے بالفاظ ديگر حج كے مختلف فلسفوں سے تعبير كيا جا سكتا ہے۔
۱۔ اخلاقی فلسفہ۔ اس بات میں شك نہیں ہے كہ حج انسان كے اخلاقی پہلو كو بھی شامل ہے كيونكہ ايك طرف سے ابراہيم ، اسماعيل، ھاجرا، محمد اور علی جيسے پسنديدہ تربيتی نمونوں كی ياد دلاتا ہے اور زائرين كو اشياء، شجاعت اور مشكلات تو برداشت كرنے كا درس دے سكتا ہے۔ دوسری جانب حج كو صحيح انجام دينا وہاں تك موثر ہے كہ مختلف گناہوں سے آلودہ انسان كو ايك معصوم انسان میں تبديل كر سكتا ہے جيسا كہ امام صادق علیہ السلام فرماتےہیں "كان ابی يقول من ام ھذا البيت حاجاً اومعتمر امبرا من الكبر رجع من دنوبہ كھیۃ يوم ولدثہ امہ"
۲۔ ثقافتی فلسفہ:
حج كے ثقافتی پہلو كو دين خدا كی تقويت اور عقيدتی بنيادوں كے استحكام میں قرار ديا جا سكتا ہے جيسا كہ حضرت علی علیہ السلام كے خطبہ فدك میں آيا ہے۔ "والحج تشييدا للدين" حج دين كی بنيادوں كو مستحكم كرتا ہے" اميرالمؤمنين علیہ السلام كے كلام میں "تقريبۃ للدين" كی تعبير استعمال ہوئی ہے۔ كيونكہ حج كی عظيم كانفرنس میں كہ تمام مسلمان وہاں پر اكھٹے ہوٹے ہیں لہذا وہ باہمی تبادلہ خيال كے ذريعے دين كے استحكام كا جائزہ لے سكتے ہیں۔ امام صادق علیہ السلام نے بھی كعبہ اور اعمال حج كے فلسفہ كی وضاحت كرتے ہوئے فرمايا: "وھذا بيت مجمع العظمۃ والجلال۔۔۔" بنابریں حج تقرب الہی كا بھی وسيلہ ہے اور لوگوں كے دين يكے قريب ہونے كا وسيلہ بھی اور دين كی عظمت اور جلال او سيرہ اور سنت نبوی كی تعليم كا مدرسہ بھی ہے تاكہ دشمن، اسلام اور مسلمانوں كی طرف مبلی نظر نہ كر سكے۔
۳۔ سماجی فلسفہ:
حج كے ايك دينوی فائدہ مختلف اقوام كے آداب و عادات اور رسوم كی شناخت ہے جيس اكہ امام صادق علیہ السلام نے فلسفہ حج كے بارے میں فرمايا " فجعل فیہ الاجتماع من الشرق و الغرب ليتعارفوا۔۔۔۔" (وسائل الشيعہ باب وجوب حج) بنابریں مسلمان ايك دوسرے آداب و رسوم سے آگاہ ہو كر ايك دوسرے سے تبادلہ خيال كر سكتے ہیں۔
۴۔ سياسی فلسفہ:
حج كے ايام انسانوں كی بيداری كا مركز بن سكتے ہیں اس سفر میں مسلمان وحدت اسلامی كی نمائش كے علاوہ ايك دوسرے سے تعلق قائم كر كے دوسرے ممالك كے سياسی حالات سےآگاہی حاصل كر سكتے ہين علاوہ اينكہ كہ ايام حج میں برائت از مشركين سورہ براۃ كی ۳ نمبر آيت "ان اللہ بری من المشركين و رسولہ" كے مطابق ہے خود حج سياسی پہلو كو بھی بيان كرتا ہے اور امت اسلامی كی بڑی سياستوں كے اعلان كرنے كا مقام ہو سكتا ہے۔
امام خمينی (رح) نے "يشھدوا منافع لھم" كی تفسير میں كہا ہے : اس سے بالا تر نفع اور فائدہ كيا ہو سكتا ہے كہ مظلوم ممالك سے متكبرين عالم اور ظالموں كا تسلط ختم ہو جائے اور مختلف ملكوں كے عظيم خزانے انہیں ممالك كے لوگوں كے لیے ہوں۔ حج كا مقصد یہ ہےكہ مسلمانوں كی ايك سال كی مشكلات كا جائزہ ليا جائے اور ان مشكلات كو بر طرف كرنے كی كوشش كی جائے اور سب سےبڑی اور بنيادی مشكل مسلمانوں كے درميان وحدت كا نہ ہونا ہے۔
493961