ايرانی صدر كے مشير حميد مولانا نے بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" سے گفتگو كےدوران اس سال حج میں قائد انقلاب اسلای كے پيغام كے حوالے سے موجودہ دنيا فكر اور نظریے میں اتحاد و وحدت كو حكومتوں كی پاليسيوں اور عوام كی آمادگی كو بنياد قرارديتے ہوئے كہا ہے كہ مسلمانوں كو چاہیے كہ وہ اپنی صفوں میں وحدت و اتحاد كی حفاظت كریں۔
انہوں نے مزيد كہا كہ مسلمان موجود وسائل سے استفادہ كر كے اتحاد و وحدت كے راستہ كو اختيار كریں كيونكہ اسلام میں ان مسائل كے لیے بہت سے قوانين موجود ہیں۔
انہوں نے برائت از مشركين كے بارے میں قائد انقلاب اسلامی كے پيغام كيطرف اشارہ كرتے ہوئے كہا كہ براۃ از مشركين ايك دينی فريضہ ہونے كے علاوہ سماجی فريضہ بھی ہے كہ جس كے تحت حجاج ايك دوسرے كی مشكلات سےآگاہ ہوتےہیں۔
507431