بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی 'ايكنا" شعبہ لبنان كی رپورٹ كے مطابق علامہ سيد محمد حسين فضل اللہ نے ۸ جنوری كو اپنے نماز جمعہ كے خطبوں سے خطاب كرتے ہوئے كہا ہے كہ اس وقت مسئلہ فلسطين انتہائی خطرناك مرحلے سے گزر رہا ہے كيونكہ صلح كے تحقق كے لئے ان غاصبوں كے پروگرام ناكام ہو گئے ہیں لہذا وہ اس علاقے كو یہودی بنانے، فلسطينی پناہ گزينوں كے مسئلے اور صہيونی حكومت كی یہودی بستيوں كی تعمير كو وسعت دينے كی كوشش كر رہا ہیں۔
علامہ فضل اللہ نے مزيد كہا كہ ان حالات میں غزہ پر صہيونی اور بين الاقوامی محاصرہ بھی تنگ ہوتا جا رہا ہے اور لوہے كی ديوار كی تعمير كے ذريعے غزہ كے مظلوم عوام كو دنيا سے كٹ آف كيا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزيد كہا كہ ہم فلسطينی شہريوں كو اسرائيل كے ساتھ مذاكرات كروانے كے بارے میں عربی سسٹم كے واشنگٹن اور تل ابيب كے ساتھ جديد تعاون كے بارے میں خبردار كرتے ہیں۔
علامہ فضل اللہ نے كہا كہ اس وقت امريكہ دنيائے اسلام اور عرب كے حالات كو پڑھا چڑھا كر پيش كر كے اسلامی اور عربی امور میں اپنی مداخلت كی توجیہہ كر رہا ہے امريكی وزير خارجہ كا نظریہ ہے كہ يمن كے حالات، دنيا كے لئے خطرہ ہیں لہذا اس قسم كے بيانات يمن كے اندرونی امور میں امريكہ كی كھلی مداخلت ہے۔
520523