بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" كی رپورٹ كے مطابق عبادت، ہماری سعادت اور كمال كا وسيلہ ہے اور خداوند متعال نماز كے بارے میں حكم اس كمال تك پہنچنے كے لئے ايك قسم كا لطف اور رہنمائی ہے مثال كے طور پر جب والدين اپنی اولاد كو تعليم حاصل كرنے كا حكم ديتے ہیں تو یہ خود ان كی اولاد كے لئے مفيد ہے اور ان كے لئے باعث سعادت ہے اور یہ امر والدين كی اولاد سے محبت كی وجہ سے ہے وگرنہ اولاد كا درس پڑھنا والدين كے لئے فائدہ مند نہیں ہے۔
مندرجہ ذيل آيات اور احاديث میں نماز كی حكمت اور فلسفہ كی تشريح كی گئی ہے۔
۱۔ خدا كی ياد "و أقم الصلوۃ لذكری" نماز كو قائم كرو تاكہ ميری ياد میں رہو۔
۲۔ گناہ اور برائی سے روكنا۔ "ان الصلاۃ تنھی عن الفحشاء و المنكر"
بتحقيق نماز انسان كو برائی اور گناہ سے روكتی ہے۔
۳۔ روح كی طہارت "۔۔۔۔ انما تنذر الذين يخشون ربھم بالغيب و أقاموا الصلوۃ ومن تزكی فانما يتزكی لنفسھ ی ولی اللہ المصير"
۴۔ تكامل كی راہ میں نماز سے مدد لينا "وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلاةِ وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةٌ إِلا عَلَى الْخَاشِعِينَ"
نماز اور صبر سے مدد طلب كرو بتحقيق یہ كام سخت ہے مگر متواضع افراد پر۔
۵۔ تكبرو غرور سے پاك ہونا: حضرت فاطمۃ(س) فرماتی ہیں۔"۔۔۔۔ والصلاۃ تنزیھا من الكبر۔۔۔۔۔"
خداوند متعال نے نماز كو اس لئے واجب كيا تاكہ لوگ تكبروغرور سے پاك ہوں۔
۶۔ فلاح اور نجات: " قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ۔ الَّذِينَ هُمْ فِی صَلاتِهِمْ خَاشِعُونَ"
بتحقيق مومنين كامياب ہیں وہی جو اپنی نمازوں كو میں تواضع كرتے ہیں۔
حديث میں آيا ہے كہ ميری امت كے لئے پنجگانہ نمازوں كا كردار اس خالص پانی والی نہر كی مانند ہے جو ان كے گھر كے سامنے سے بہتی ہے اور اگر كوئی اس نہر میں روزانہ پانچ مرتبہ غسل كرے، تو كيا آپ كے گمان كے مطابق اس كے بدن پر ميل كچل رہ جائے گی؟
ايك اور حديث میں امام باقر علیہ السلام نے فرمايا: جب ايك نمازی قبلہ كی طرف رخ كر كے نماز كے لئے كھڑا ہوتا ہے تو خداوند رحمان و رحيم اس پر خصوصی توجہ كرتا ہے۔
انسان كی روزانہ كی نماز، خداوند متعال كی بے پناہ نعمتوں كا شكریہ ہے نيز اس كے جمال و عظمت كی تعريف وتمجيد ہے۔ ايك اور حديث میں آيا ہے كہ انسان، نماز كی حالت میں اپنے خدا سے گفتگو كرتا ہے اور اگر انسان اس گفتگو سے لذت حاصل كر لے تو وہ كبھی بھی نماز كی حالت سے خارج نہیں ہو گا۔
ہاں كس قدر لذت آور ہے كہ خدائے كائنات سے گفتگو و مناجات كرنا۔
522440