بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" كی رپورٹ كے مطابق ارمينا كے دانشور پروفيسر ہوانيسيان نے ۵ فروری كو منعقد ہونے والی اس نشست میں اپنی تقرير كے دوران اسلامی انقلاب ايران كے عالمی اثرات كا جائزہ ليتے ہوئے كہا كہ اسلامی انقلاب ايران میں امامت اور اجتہاد جيسی دو خصوصيات پائی جاتی ہیں كہ جن كی وجہ سے وہ دنيا كے حالات كے مطابق عمل كر رہا ہے۔
انہوں نے كہا كہ ائمہ كی امامت كو قبول كی وجہ سے اسلامی انقلاب نے ہميشہ دينی ثابت اصولوں كی پيروی كی ہے اور یہ ديگر انقلابات كی طرح ناكام نہیں ہوا ہے۔
ہوانيسيان نے اپنی تقرير میں اسلامی انقلاب سے پہلے اور بعد میں ايران كے حالات پر گفتگو كی ہے
536266