بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی 'ايكنا" نے "medya73" كے حوالے سے نقل كيا ہے كہ مصر كے مفتی نے ۹ اكتوبر كو "سيرت نبی اكرم(ص)" كے موضوع پر منعقد ہونے والی بين الاقوامی نشست كی افتتاحی تقريب سے خطاب كرتے ہوئے كہا ہے كہ پيغمبر اكرم(ص) كی بابركت زندگی كا برلمحہ، دنيا كے تمام انسانوں كے لئے ايك عملی نمونہ ہے، حضرت محمد(ص) نے مسلمانوں كے درميان چار اہم عملی نمونوں كو پيش كيا ہے۔
مكہ مكرمہ میں تبليغ كے دوران صبرواستقامت، حبشہ كی طرف ہجرت كے دوران ديگر انسانوں سے امن پسند زندگی اور يكجہتی، معاشرے كے ديگر انسانوں كی مدد جو كہ مدينہ میں انجام دی۔
اور مدينہ كے دوسرے دور میں ديگر اديان كے پيروكاروں اور معاشرے كے دوسرے افراد كے ساتھ مناسب برتاؤ اور عدل و انصاف كا قيام، علی جمعہ نے مزيد كہا كہ ہر معاشرے میں زندگی گزارنے والے ہر انسان كو ان چار اہم اصول پر خصوصی توجہ دينی چاہیے كيونكہ یہ بہترين الہی بندے كا كردار ہے بنابریں اس قسم كے عملی نومنوں كی پيروی كرنا بشری سعادت كا ضامن ہے۔
ياد رہے كہ یہ نشست ۱۰ اكتوبر كو مختلف ممالك كے مسلمان علماء اور دانشوروں كی تقارير سے اختتام پذير ہو گئی ہے۔
671713