بين الاقوامی قوانين كی پابندی كے ذريعے ہی غزہ كا بحران ختم ہو سكا ہے: احسان اوگلو

IQNA

بين الاقوامی قوانين كی پابندی كے ذريعے ہی غزہ كا بحران ختم ہو سكا ہے: احسان اوگلو

سياسی گروپ: oic كے سيكرٹری جنرل "اكمل الدين احسان اوگلو" نے اس بات پر زور ديا ہے كہ غزہ كی پٹی كے انسانی بحران اور اس علاقے كے محاصرے كے خاتمے كے لئے بين الاقوامی قوانين كی مدد حاصل كرنی چاہیے۔
بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" شعبہ تركی نے كويت كی خبررساں ايجنسی "كونا" كے حوالے سے نقل كيا ہے كہ oic كے سيكرٹری جنرل نے ۲۴ اكتوبر كو "جدہ" میں منعقد ہونے والی عالم اسلام كے قانون دانوں كی نشست میں اپنے پيغام میں كہا ہے كہ غزہ كا محاصرہ فقط بين الاقوامی قوانين كی خلاف ورزی ہی نہیں بلكہ اخلاقی تعليمات كے بھی مخالف ہے احسان اوگلو نے عالم اسلام كے قانوں دانوں سے مطالبہ كيا ہے كہ وہ غزہ كے محاصرے كے خاتمے كے لئے ٹھوس تجاويز پيش كریں تاكہ oic كے ركن ممالك اور مدنی انسٹیٹيوٹز ان كو نافذ كر سكیں۔
انہوں نے غزہ كے محاصرے كے خاتمے كے لئے oic كی كوششوں كی طرف اشارہ كرتے ہوئے كہا اسرائيل كے توسط سے غزہ كے محاصرے كے مسئلے كے سياسی، انسانی اور قانونی مختلف پہلووں كا جائزہ لينا چاہیے۔
Oic كے سيكرٹری جنرل نے مزيد كہا كہ اس آرگنائزيشن نے ابھی تك غزہ كے محاصرے كے مسئلے كے بارے اہم فيصلے كیے ہیں جن میں سے مہمترين مسئلہ نومبر ۲۰۰۶ء كو اس محاصرے كے خاتمے كے لئے اسرائيلی جنگی ظالموں كو عدالتی كٹہرے میں لانے كے لئے عملی اقدام ہے۔
682313