ايران، قرآن كريم اور قرآنی علوم كا احياء كرنے والا ہے: سعودی عرب كی محققہ

IQNA

ايران، قرآن كريم اور قرآنی علوم كا احياء كرنے والا ہے: سعودی عرب كی محققہ

سياسی گروپ: اسلامی جمہوریہ ايران، قرآن كريم اور قرآنی علوم كو زندہ كرنے والا اور یہ وہی طاقت ہے كہ جس كے بارے میں خداوند فرماتا ہے "واعد والھم ما استطعتم من قوۃ" سورہ انفال آيت ۶۰۔
سعودی عرب كی قرآنی علوم كی محققہ اور قرآنی محققہ خواتين كے آٹھویں بين الاقوامی سيمينار كی منتخب خاتون "ام عباس النمر" نے بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" سے بات چيت كے دوران اس مطلب كی وضاحت كرتے ہوئے كہا كہ اسلامی انقلاب كی كاميابی كے بعد عالم اسلام كے ام القراء كے عنوان سے ايران انسانوں بالخصوص مسلمانوں كے اندر نئی روح پھونكنے اور قرآنی مفاہيم كی نشرواشاعت میں كامياب ہوا ہے۔
انہوں نے مزيد كہا كہ حجاز كا یہ گروپ اسلامی انقلاب ايران سے متاثر ہوا ہے اور اسلامی ثقافت كی ترويج اور بالخصوص قرآنی مفاہيم كی نشرواشاعت امام خمينی(رح) اور علامہ طباطبائی جيسے عظيم مفسرين كی مرہون منت ہے۔
انہوں نے كہا ہم كئی سالوں سے سعودی عرب میں قرآن كريم اور تفاسير قرآن كريم كے كورسز منعقد كر رہے ہیں اور بے شك یہ وہی اصل ہے كہ اگر قرآنی تعليمات عام ہو جائیں تو انسانوں كو عزت، كرامت اور نئی زندگی مل سكتی ہے اور اسی اسلحہ كی وجہ سے دشمن ہم سے جنگ كر رہا ہے اور واضح نمونہ قرآن كريم كو جلانا ہے كيونكہ وہ بخوبی آگاہ ہیں كہ قرآن كريم، مسلمانوں كی طاقت كا راز ہے۔
النمر نے آخر میں كہا كہ ايران، قرآن كريم اور قرآنی علوم كو زندہ كرنے والا ہے اور یہ وہی طاقت ہے كہ جس كے بارے میں خدا فرماتا ہے "واعدوا لھم ما استطعتم من قوۃ" سورہ انفال آيت ۶۰۔
684900