بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی ايكنا كی رپورٹ كے مطابق بلگراد میں مقيم استاد حميد نوذريان نے صربستان ٹيلی ويژن كو ايك انٹرويو ديتے ہوئے كہا ہے كہ مشرق وسطی میں اسلامی بيداری كی جو لہر اٹھی ہے اس میں عورتیں، مردوں كے شانہ بشانہ كھڑی ہیں۔
انہون نے كہا كہ دين اسلام میں جہاں مردوں كے لئے اجتماعی و سياسی كردار نظر آتے ہیں وہیں پر عورتوں كا كردار بھی مردوں سے كم نہیں ہے۔ نوذريان نے ايرانی خواتين كی كاميابيوں كا تذكرہ كرتے ہوئے كہا كہ آج ايران میں خواتين مردوں كے مقابلے میں زيادہ سرگرم نظر آتی ہیں اور زندگی كے ہر شعبہ میں بھرپور كاميابياں سمیٹ رہی ہیں۔
انہوں نے كہا كہ ملكی كابينہ میں اگر ديكھا جائے تو صدر كے مشير سے لے كر دوسرے امور میں خواتين نظر آتی ہیں لہذا ايرانی خواتين دوسری مسلم خواتين كے لئے نمونہ عمل بن سكتی ہیں۔
760811