علامہ جوادی آملی كی تفسير فلسفی ادبيات سے متاثر نہیں ہوئی ہے

IQNA

احمد مبلغی؛

علامہ جوادی آملی كی تفسير فلسفی ادبيات سے متاثر نہیں ہوئی ہے

فكر گروپ : آيت اللہ العظمٰی جوادی آملی فلسفہ میں تبحر ركھنے كے باوجود اپنی تفسير میں چند موارد كے علاوہ فلسفی ادبيات سے نزديك نہیں ہوئے اور اس امر سے قاری كو یہ موقع ملتا ہے كہ آيات قرآن میں آزادانہ سوچ بچار كر سكے ۔
عالمی مجلس برائے تقريب مذاہب اسلامی كے مركز تحقيقات كے انچارج حجت الاسلام و المسلمين احمد مبلغی نے ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی (ايكنا ) كے ساتھ بات چيت كرتے ہوئے كہا : آيت اللہ العظمٰی جوادی آملی نے اپنی تفسير "تسنيم" میں مطالب كو منتخب گلدستوں كی صورت میں پيش كيا ہے ، اس طرح سے كہ كچھ گلدستے ادبی ہیں ، كچھ اخلاقی ہیں ، كچھ معاد سے مربوط ہیں ، كچھ جامعہ شناسی سے متعلق ہیں ، كچھ معيشت پر بحث كرتے ہیں اور اسی طرح كچھ مطالب تاريخی واقعيوں سے پردہ اٹھاتے ہیں ۔
865017