يوگا كے روحانی قوانين كی بنياد پر قائم عرفان، مادی اور دنياوی ہے

IQNA

يوگا كے روحانی قوانين كی بنياد پر قائم عرفان، مادی اور دنياوی ہے

فكر گروپ : حوزہ علمیہ اور يونيورسٹی كے استاد حجة الاسلام و المسلمين ڈاكٹر محمد تقی فعالی نے اس بات كی طرف اشارہ كرتے ہوئے كہ مكتب يوگا كے پيروكار معتقد ہیں کہ سب سے زيادہ بامعرفت وہ ہے جو زيادہ توانائی ركھتا ہو اظہار خيال كيا ہے كہ يوگا كی بنياد پر قائم عرفان اور روحانيت دنياوی اور مادی ہے ۔
ايران كی قرآںی خبر رساں ايجنسی﴿ايكنا﴾ كی رپورٹ كے مطابق حوزہ علمیہ اور يونيورسٹی كے استاد اور نئی جنم لينے والی روحانی تحريكوں كے حوالے سے ۹ كتابوں كے مصنف حجت الاسلام و المسلمين محمد تقی فعالی نے طلباء كی قرآنی سرگرميوں كے ملكی ادارے میں منعقد ہونے والی "جھوٹے عرفان كی آفات سے آشنائی" كے موضوع پر چوتھی نشست میں اس نظریے كا تنقيدی جائزہ ليتے ہوئے خطاب كيا ہے ۔
اس محقق نے اس بات پر زور ديتے ہوئے كہ "نروان" بدھ مت كے آئين كا ايك روحانی مفھوم ہے واضح كيا ہے كہ بدھ مت كا یہ عقيدہ تھا كہ اگر انسان مشكل اور كٹھن قسم كی رياضتیں كرے تو آخر كار "نروان" نامی حالت تك رسائی حاصل كر ليتا ہے ۔ ہندوستان اور بدھ مت كی ثقافت میں "نروانا" كی متعدد اور مختلف قسم كی تفسيریں كی گئی ہیں جن میں سے ايك اندرونی خاموشی يا سكوت باطنی ہے۔
حجة الاسلام فعالی نے مزيد كہا ہے كہ "نيروان" كو نفسانی سكون اور سرور سے بھی تعبير كيا جا سكتاہے ۔ اگر انسان وصال حق يعنی ايك عميق روحانی كيفيت پيدا كر لے اور باطنی سكون كے سمندرمیں غوطہ زن ہو جائے تو اس حالت كو "نروان" كہا جائے گا، دوسری تعبير میں انسان كے اندر روحانيت كے نقطہ عروج كا نام "نروان" ہے۔ اس بيان كے ذريعے ہم یہ استنباط كر سكتے ہیں كہ يوگا ايك عرفانی مكتب ہے نہ كہ ايك ورزش كا سٹائل اور "نروان" كی حالت ہمارے اس مطلب پر شاہد ہے ۔
انہوں نے يوگا كے آٹھ مراحل كی طرف اشارہ كرتے ہوئے كہا : یہ آٹھ مرحلے اپنے سب سیٹس كے ساتھ تقريبا چاليس مرحلے بنتے ہیں جو بہت سی ٹيكنيكس جيسا كہ جھكنا، لیٹنا ، چلنا ، كھڑا ہونا ، لگاتارسانس لينا وغيرہ پر مشتمل ہیں۔ مثلا "پانانجلی" كہتا ہے كہ انسان سانس لينے كے دوران كائنات كی "پران" نامی مثبت توانائی كو بيرونی دنيا سے اپنے اندر لے كر جاتا ہے اور سانس چھوڑتے وقت اپنی منفی توانائيوں كو باہر كی دنيا میں منتقل كرتا ہے ۔
انہوں نے مزيد كہا : لہذا تنفس يعنی سانس لينے اور چھوڑنے كا ايسا عمل جس كے دوران انسان دنيا كی مثبت توانائيوں كو ليتا اور اپنے اندر كی منفی توانائيوں كو خود سے دور كرتا ہے ۔ مكتب يوگا كے پيروكار كہتے ہیں كہ اگر انسان صحيح طريقے سے تنفس كی ٹيكنيك كو اجرا كرے تو اپنے اندر كے مختلف دردوں اور غموں سے نجات حاصل كر ليتا ہے يا كم از كم اندرونی درد كم ہو جاتے ہیں ۔ انسان كے اندرون كا مختلف غموں ، نفسياتی ، ذہنی ، فكری اور احساساتی دردوں سے دوچار ہو جانا اس بات پر دلالت كرتا ہے كہ انسان سانس لينے كے عمل میں كائنات میں موجود توانائی كے بہاؤ سے ہم آنگ نہیں ہے ۔
انہوں نے اس بات كی طرف اشارہ كرتے ہوئے كہ میں نے يوگا كی تعليمی كتابوں كے اجمالی جائزے كے دوران سينكڑوں مختلف قسم كی ٹكنيكس سے آشانائی حاصل كی ہے اظہار خيال كيا ہے كہ اگر كوئی ان ٹيكنيكس كو سيكھنے كے لیے دن میں پانچ گھنٹے صرف كرے تو تمام ٹيكنكس كی تعليم كے لیے اسے كئی سال دركار ہوں گے ۔
حجۃ الاسلام فعالی نے كہا : پانانجلی كہتا ہے كہ پوری كائنات ايك توانائی ہے ۔ لہذا لفظ "توانائی" كے ساتھ جو بھی مفھوم اور تعبير جوڑی جائے جيسے"توانائی كے گروپ" ، " توانائی تھراپی" ،"توانائی تھراپسٹ"،"توانائی كے سٹونز"،"توانائی كی موسيقياں"،"توانائی كے نور"اور اس قسم كی ديگر تركيبات جو آج ايران میں مشہور ہیں بے شك ان كا سرچشمہ پانانجلی كا يوگا ہے۔
انہوں نے یہ بيان كرتے ہوئے كہ توانائی كے مسئلے پر بحث و تمحيص ہمارے ملك میں يوگا كے رواج پر واضح دليل ہے تاكيد كی ہے : پاناجلی كے عقيدے كی روسے سراسر كائنات توانائی ہے ليكن یہ واضح نہیں كہ توانائی سے اس كی كيا مراد ہے؟ يقينا توانائی سے اس كی مراد فيزيكل مفھوم نہیں ہے بلكہ وہ لفظ "توانائی" كو روحانی نظر سے ديكھتا ہے ۔
انہوں مزيد كہا ہے كہ پانانجلی معتقد ہے كہ جرم ، جسم اور مادے كا كوئی وجود نہیں ہے اور پورے كا پورا جہان توانائی ہے ، اور اس حكم میں انسان بھی جہان كے ايك جز كے عنوان سے شامل ہے لہذا ان میں سے پہلی قسم كو پانانجلی كے يوگا كی رو سے جہان شناسی اور دوسری كو انسان شناسی كہتے ہیں۔
انہوں نے اس بات كو بيان كرتے ہوئے كہ انسان بھی توانائی كا ايك مربوط نظام واحد ہے واضح كيا ہے كہ انسان توانائی كے سات حصوں پر مشتمل ہے پہلا حصہ ؛ مادی ہے البتہ جسم مادہ نہیں ہے بلكہ توانائی كا متراكم نظام ہے ، دوسرا حصہ ايتھيريل(نہايت لطيف) ، تيسرا حصہ احساسات پر مشتمل ہے اور آخری ساتواں حصہ "نروانی" ہے ۔
انہوں اس بات پر تاكيد كرتے ہوئے كہ یہ تمام حصے متعدد اور مختلف توانائياں ركھتے ہیں واضح كيا ہے كہ توانائی كا سب سے كم حجم پہلے حصے سے مربوط ہے اور اسی ترتيب سے دوسرے حصے كی توانائی پہلے سے زيادہ ہوگی ليكن توانائی كا سب سے زيادہ تناسب ساتویں مرحلے میں "نروانی" سے مربوط ہے ۔ پانانجلی كا عقيدہ ہے كہ "نيروانی" حصے كی توانائی تمام كائنات كی توانائی كے برابر ہے لہذا ساتواں حصہ تمام كائنات كے ساتھ متصل ہے ۔
پانانجلی كی منطق میں سب سے زيادہ با معرفت وہ ہے جس كے پاس زیادہ توانائی ہوگی
حجة الاسلام فعالی نے كہا : قابل ذكر ہے كہ پانانجلی كے عقيدے كی رو سے مذكورہ حصے انسان كے اندر اسطرح آپس میں متصل ہیں كہ ہر حصہ اپنے سے نيچے والے حصے كا احاطہ اوراس پر نظارت كرتا ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے كہ پانانجلی كے عقيدے میں انسان كا اپنی ذہانت ، پاكيزگی اورظريف احسسات كے ساتھ ساتھ روحانی سرورسے استفادہ كرنا اوپر والے حصوں سے تعلق ركھتا ہے ۔اگر انسان اوپر والے حصوں میں منتقل ہوجائے تو اپنی ذہانت ، ادراك اور معرفت سے زیادہ فائدہ اٹھاسکتا ہے۔
انہوں نے كہا ہے مذکورہ فارمولے کے تحت یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اس سيسٹم میں سب سے زيادہ ذہين وہ ہے جو اوپر والے حصوں كی توانائی سے فائدہ اٹھا سكے ۔ اسی طرح سب سے بڑاعارف وہ ہے جو سب سے زيادہ توانائی ركھتا ہو ۔ یہ قانون ہالی ووڈ كی بہت سی فلموں میں نظر آتا ہے جس كو ماورائی سينما كی بحث میں ذكركيا جائے گا۔
استاد فعالی نے مزيد كہا ہے كہ خالص دينی اور قرآنی عرفان كی بحث میں ذكر كيا گيا ہے كہ عارف اس كو كہیں گے جو مبدٲ ہستی كے ساتھ زيادہ مربوط ہو گا ۔ دينی تعبير میں انسان جتنا بڑا مقرب ہو گا وہ اتنا ہی بڑاعارف ہوگا ۔ اب جتنا بھی اس خالص اسلامی نگاہ اور يوگا كی عرفانی نگاہ میں موجود فرق نظر آئے گا اتنا ہی ہم اسلامی عرفان اور عرفان يوگا كے درميان فرق كو جان سكیں گے ۔
انہوں نے آخر میں كہا : یہ دعوی كہ سب سےبڑا عارف وہ ہے جو زيادہ توانائی ركھتا ہو ايك زمينی ،خاكی ، مادی اور دنياوی عرفان ہے ليكن یہ نظر كہ سب سے بڑا عارف وہ ہے جو خالق ہستی سے نذديك تر ہو الہی اور ماورائی عرفان ہے۔
930296