ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ﴿ايكنا﴾ كی رپورٹ كے مطابق حوزہ علمیہ اور يونيورسٹی كے استاد اور اور نئی جنم لينے والی روحانی تحريكوں كے حوالے سے ۹ جلد كتابوں كے مصنف حجت الاسلام و المسلمين محمد تقی فعالی نے طلباء كی قرآنی سرگرميوں كے ملكی ادارے میں منعقد ہونے والی "جھوٹے عرفان كی آفات سے آشنائی" كے موضوع پر چوتھی نشست میں اس نظریے كا تنقيدی جائزہ ليتے ہوئے خطاب كيا ہے ۔
حجة الاسلام و المسلمين فعالی نے كہا ہے كہ گزشتہ نشستوں میں اس بات كی جانب اشارہ كيا گيا ہے كہ دنيابھر میں كام كرنے والے حالیہ روحانی فرقوں ،مذاہب اور تحريكوں پر ايك نگاہ ڈالی جائے تو ان كو مندرجہ ذيل سات دستوں میں تقسيم كيا جا سكتاہے ہیں : ہندوستان كے روحانی آئين ، امريكا كے روحانی مذاہب ، مسيحی عرفان ، یہودی عرفان يا "كبالا"،چينی عرفان يا زين بدھمت كے قوانين ، ماورائے علم ، اور ان كے علاوہ دنيائے حاضر كی پركشش اور مؤثر ترين تخليق "ماورائی سينما " "يا معنی خيز كارٹون" ۔
انہوں نے كہا : پہلی بخش میں ہم نے ہندوستان كے روحانی آئين كو دو اہم حصوں قديمی رسومات اور نئی جنم لينے والی روحانی تحريكوں كے عرفان میں تقسيم كيا ہے ۔ اسی طرح پہلی قسم يعنی قديمی رسومات بھی پانچ گروپوں ويد، براہمن، جين، بدھ مت اور تنترہ پر مشتمل ہے ۔ ليكن ہماری گفتگو كا اصلی محور ہندوستان كی نئی جنم لينے والی روحانی تحريكیں اور مذاہب ہیں جن كی تعداد بہت زيادہ ہے لہذا ہم ان نشستوں كے دوران صرف سات كی طرف اشارہ كریں گے۔
استاد فعالی نے ہندوستان كے نئے عرفانی آئين كی طرف اشارہ كرتے ہوئے كہا ہے كہ یہ نئے جنم لينے والے سات روحانی آئين مندرجہ ذيل ہیں : يوگا ، روحانی آئين اشو كا ،سائیں بابا كا آئين ، روحانی مذہب رام اللہ، روحانی آئين كرشنا، عرفان يوگينڈا اور تبت كا دلائی لامہ آئين ۔
انہوں نے كہا اپنی گفتگو كو با ہدف ركھنے كے لیے ہمیں ان مباحث كا ايرانی نقطہ نظر سے جائزہ لينے پر توجہ ركھنی ہو گی ، يعنی ایسانہیں ہے كہ یہ مباحث كسی اور دنيا سے تعلق ركھتے ہیں بلكہ ہمارے ملك میں فعال يوگا كی تحريكیں بھی انہی كا ايك حصہ ہیں لہذا اپنے ملك میں يوگا كی موجودہ حالت پر بھی ايك نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔
استاد فعالی نے اس بات كی طرف اشارہ كرتے ہوئے كہ اس وقت ايران میں تقريبا يوگا كے حوالے سے ۲۰۰ كتابیں موجود ہیں كہا ہےكہ گذشتہ دو دہائيوں كے دوران يوگا كے حوالے سے تقريبا ۲۰۰ كتابوں كی تاليف ،ترجمہ اور اشاعت ايك بہت بڑی تعداد ہے ۔ انٹرنیٹ میں بھی تقريبا ١۰۰۰ ويب سائیٹیں يوگا كے حوالے سے كام كر رہی ہیں البتہ ان ويب سائیٹوں میں فعال ويب لاگز بھی شامل ہیں ۔
انہوں نے ملك میں يوگا كے تعليمی مراكز كی طرف اشارہ كرتے ہوئے واضح كيا ہے ايك غير رسمی اعداد و شمار كے مطابق تہران میں يوگا كی تعليم كے لیے تقريبا ۲۰۰ مراكز كام كررہیں ہیں جبكہ اسی تناسب سے ملكی سطح پر ان مراكز كی تعداد تقريبا ۲۰۰۰ ہزار ہو گی ۔ البتہ ان مراكز میں سے كچھ غير سركاری طور پر فعال ہیں جن كے پاس قانونی اجازت نہیں ہے۔
حجة الاسلام فعالی نے اس بات پر تاكيد كرتے ہوئے كہ اس وقت ملكی سطح پر يوگا كی تعليم سہ ماہی ٹرموں پر مشتمل ہے واضح كيا ہے كہ تقريبا دو دہائيوں سے " انجمن علمی يوگا" سركاری سطح پر كام كررہی ہے ۔
انہوں نے ايران میں يوگا كے مقام كی طرف اشارہ كرتے ہوئے كہا : اس بيان كے بعد اگرسوال كيا جائے كہ ايران میں يوگا كا كيا مقام ہے ؟ تو جواب میں ہم ايك عمومی غلط فہمی تك پہنچیں گے ۔ يوگا میں تھوڑے سے غور و فكر اور اس كی وضعيت كا جائزہ لينے كے بعد ہم اس نتيجے تك پہنچیں گے كہ ايران میں يوگا كو سابق فيزيكل ايجوكيشن كے ادارے اور موجودہ وزارت كھيل و يوتھ میں ايك خاص مقام حاصل ہے جو اس بات كی نشاندہی كرتا ہے كہ ايران میں يوگا كو ايك كھيل اورورزش كی نگاہ سے ديكھا جاتاہے جو كہ مكمل اشتباہ اور ايك واضح غلطی ہے ۔
انہوں نے واضح کیا کہ اكثر سپورٹس كلبوں میں عام طور پر كچھ ورزشوں كو اولويت حاصل ہوتی ہے اور یہی زيادہ مورد توجہ قرار پاتی ہیں ان میں سے ايك ورزش ائيروبيك ہے جس میں تيزموسيقی كے ہمراہ ڈانس سے ملتی جلتی حركات انجام دی جاتی ہیں ۔ اسی طرح يوگا ، جمناسٹك اور مارشل آرٹس بھی انہیں مشہور ورزشوں میں شامل ہیں اس كا مطلب یہ ہے كہ يوگا ہمارے سپورٹس كلبوں میں مشہور اور پھيل چكا ہے ۔ اگر اوپر ذكر كیے گئے يوگا كے تعليمی مراكز كے اعداد و شمار میں ان كلبوں كا بھی اضافہ كيا جائے تو يوگا كے تعليمی مراكز كی تعداد میں ہزاروں كا اضافہ ہو جائے گا ۔
فعالی نے اس بات پر تاكيد كرتے ہوئے كہ دو سال قبل ملك كے تعليمی چينل میں سركاری طور پريوگا كی تعليم دی جاتی رہی ہے كہا ہے گزشتہ دو سال میں بہت سے سكولوں خصوصا لڑكيوں كے سكولوں میں يوگا كو سكون حاصل كرنے كی ايك ٹيكنيك كے طور پر سكھايا جاتا تھا جس كو بعض تعليمی وجوہات كی بنا پركم كر ديا گيا ہے یہاں تك كہ كچھ كلاسوں میں مذہبی اور قرآنی اساتذہ بھی يوگا كی تعليم ديتے تھے ۔
استاد فعالی نے كہا ہے كہ يوگا كے بارے میں گفتگو ملك میں كسی پيچيدہ اور ناآشنا مقولے سے متعلق بحث و تمحيص نہیں ہے بلكہ ايك ہنر كے بارے میں گفتگو ہے جوہمارے ذريعے ترويج اور ترقی پا رہا ہے ۔ اب یہ سوال پيش آتا ہے كہ آيا واقعا يوگا صرف ايك ورزش ہے ؟ اس كا جواب نفی میں ہے كيونكہ يوگا كسی طرح بھی تيكوانڈو اور كراٹے كی مانند ايك ورزش كا نام نہیں ہے اور نہ ہی صرف علاج معالجے کا ایک ذریعہ ہے ۔
يوگا كو ورزشی نگاہ سے ديكھنا اس كی سب سے بڑی توہين ہے
استاد فعالی نے كہا ہے كہ اسی طرح يوگا ، چلنے، بیٹھنے يا جھكنے جيسی حركات پر مشتمل ٹيكنيك كا نام نہیں ہے بلكہ يوگا اپنے موجدين كی نگاہ میں ايك عرفانی آئين اور روحانی مكتب ہے البتہ یہ كچھ حركات اور ٹيكنيكس پر بھی مشتمل ہے ۔ يوگا كو ايك ورزش كی نظر سے ديكھنا اس كے موجدين كے نزديك يوگا كی بہت بڑی توہين شمار ہوتی ہے ۔
انہوں نے اس بات كی طرف اشارہ كرتے ہوئے كہ ہماری گفتگو كا محور نئی جنم لينے والی عرفانی تحريكیں ہیں بيان كيا ہے كہ يوگا جو ہندوستان كا قديمی آئین اور مکتبہ فکر ہے اس کی بازگشت قبل از میلاد کی طرف ہے اور نو ظہور عرفانی بحثوں میں اس کو اس لیے پیش کیا جاتا ہے کہ یوگا سے متعلق جدید نظریات اور روایات منظر عام پر آرہی ہیں ۔ بدھ مت کےآئين کی بازگشت بھی يوگا كی مانند قبل از ميلاد مسيحی کی طرف ہے اور ہندوستان كے روايتی مکاتب فکر میں شمار ہوتا ہے ۔
سب سے پہلا نكتہ یہ كہ ہندوستانی ثقافت میں يوگا كا كيا مقام ہے ؟ ہندوستان میں چھ اديان ہیں جن میں سے پانچ قديمی ہیں اور چھٹا مذہب سکھ ہے جو ۱۵ء صدی عيسوی سے مربوط ہے ۔ ان چھ اديان كے كنارے چھ فلسفی مكاتب فکر بھی ہیں ہندوستان كے ان قديمی فلسفی مكاتب میں سے پوری ممانسا و وششكا قابل ذكر ہیں۔
فعالی نے اس بیان کے ساتھ کہ ہندوستان کے دیگر فلسفی مکاتب فکر میں سے ایک آئین "سان کھیا"كہلاتا ہے ، خیال ظاہر کیا ہے کہ سان کھیا دو حصوں نظری اور عملی پر مشتمل ہے سان کھیا کا عقیدہ نظریاتی اعتبار سے دو بعد رکھتاہے ، پہلا بعد"پراکریتی" ہے جو ایک جسمانی اور مادی بعد ہے اور دوسرا"پروشا" یا روحانی بعد ہے
استاد فعالی نے کہا: سان كھیا كے عقيدے كی رو سے عام حالات میں انسان ان دو ابعادمیں فرق نہیں كر سكتا ۔ اور عظمت انسان یہی ہے كہ جسم اور روح میں فرق كرسکے اور اس بات كو سمجھ سكے كے اس كا كون سا بعد جسمانی ہے اور كون سا روحانی ہے ۔
انہوں نے اس بات كی طرف اشارہ كرتے ہوئے كہ اگر انسان اس بلند مرتبہ پر فائز ہو جائے تو وہ ابدی سكون اور صاف دلی كی منزل تك رسائی حاصل كرليتا ہے كہا ہے كہ سانكھيا کا عقیدہ عملی اعتبار سے یہ ہے كہ انسان تمركز اور مراقبے کے ہمراہ بعض ٹيكنيكس اور حكمت عمليوں کو انجام دے کر ان دونوں ابعاد میں فرق کے ساتھ ذہنی سكون اور صاف دلی تک پہنچ سكتا ہے اور انہیں ٹينكينس اور حکمت عملیوں کے مجموعے كا نام يوگا ہے ۔
اسی بنا پر اس سوال كا جواب كہ ہندوستان كی قديمی آئین اور مکاتب فکر میں يوگا كو كيا مقام حاصل ہے یہ ہے كہ يوگا فلسفی مكتبہ فکر سان كھيا كے عملی حصے سے تعلق رکھتاہے جو ذہنی سكون اور صاف دلی کے علاوہ "پراكریتی" اور "پروشا" كے درميان فرق كی خاطر انجام ديا جاتاہے ۔
انہوں نے مزيد كہا ہے كہ آج يوگا کئی شاخوں اور شعبوں میں بنٹ چكا ہے ۔ ہندوستان كے سنسكرت اور مغرب کے اعداد و شمار كی بنا پر آج دنيا میں يوگا كی تقريبا ۲۰۰۰ سے زيادہ بڑی اور چھوٹی شاخیں فعال ہیں ۔ ليكن يوگا كی حقیقی شاخیں چھ مندرجہ ذيل عناوين میں تقسيم ہوتی ہیں :منترہ يوگا ، كرما يوگا، بھكتی يوگا، كنڈالينی يوگا ، راجا يوگا، اور مہم ترين پانا نجلی نامی يوگا ہے ۔
اس محقق نے كہا ہے كہ پانانجلی ہندوستان كے ايك مشہور حكيم كا نام تھا جس کا تعلق چھٹی صدی عيسوی سے تھا ۔ اس شخص نے ہندوستان كی قديمی رسومات كی بنياد پر يوگا كو ايجاد كيا تھا جو بعد میں خود اس كے نام سے مشہور ہو گيا ۔ آج يوگا كی یہ قسم ايران میں بھی سكھائي جاتی ہے ۔ پانانجلی كے عقيدے كی رو سے يوگا آٹھ مراحل پر مشتمل ہے جن میں سے پہلا "ياما" ہے اسی طرح ديگر مراحل میں "نياما" ، "اسانا" اور آخری مرحلہ "نروانا" شامل ہیں ۔
929308