نوظہورعرفان كے دعويدار دين كے انتخاب كو انسان كی خواہشات كے تابع سمجھتے ہیں

IQNA

نوظہورعرفان كے دعويدار دين كے انتخاب كو انسان كی خواہشات كے تابع سمجھتے ہیں

فكر گروپ : حوزہ علمیہ اور يونيورسٹی كے استاد حجة الاسلام والمسلمین ڈاکٹر محد تقی فعالی نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ نو ظہور عرفان كے دعويدار دين كے انتخاب كو انسان كی خواہشات اور احساسات كے تابع سمجھتے ہیں كہا ہے كہ یہ لوگ معتقد ہیں كہ انسانی سليقوں كے مطابق مختلف روحانی فرقے بنانے چاہيیں ۔
ايران كی قرآںی خبر رساں ايجنسی﴿ايكنا﴾ كی رپورٹ كے مطابق حوزہ علمیہ اور يونيورسٹی كے استاد اور نئی جنم لينے والی روحانی تحريكوں كے حوالے سے ۹ كتابوں كے مصنف حجت الاسلام و المسلمين محمد تقی فعالی نے طلباء كی قرآنی سرگرميوں كے ملكی ادارے میں منعقد ہونے والی "جھوٹے عرفان كی آفات سے آشنائی" كے موضوع پر تیسری نشست میں اس نظریے كا تنقيدی جائزہ ليتے ہوئے خطاب كيا ہے ۔
استاد فعالی نے دنيا میں رائج فرقوں كی طرف اشارہ كرتے ہوئے خيال ظاہر كيا ہے كہ آج دنيا میں ان فرقوں كے لیے مختلف قسم كے نام ركھے گئے ہیں ۔ ان میں سے مشہور ترين نام "Cult" ﴿يعنی مذہبی پرستش كا نظام﴾ ہے، اس كے علاوہ بيشتر استعمال ہونے والا نام «New age movement» يعنی عصرجديد كی تحريكیں يا نئی جنم لينے والی تحريكیں ۔
انہوں نے مزيد كہا : ان فرقوں كو عصرجديد كی تحريكوں كا نام دينے كی علت یہ ہے كہ ان میں سے اكثر فرقے دوسری جنگ عظيم كے بعد كی پيداوار ہیں ۔ اگرمغرب كی ۲٦۰۰ سالہ تاريخ پر ايك اجمالی نظر ڈالی جائے جس كا آغاز چھٹی صدی قبل از ميلاد اور قديمی يونان سے ہوا اور آج تك جاری ہے اس بات كا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے كہ خود مغرب كے متفكرين بھی اس بات كو قبول كرتے ہیں كہ مغرب كی ۲٦۰۰ سالہ تاريخ ايك طرف اور ۲۰ صدی عيسوی كا دوسرا حصہ جو ٦ دہايوں پر مشتمل ہے دوسری طرف ۔ ۲۰ صدی عيسوی كے پہلے اور دوسرے حصے میں حد فاصل دوسری جنگ عظيم ہے جو سال ١۹۴٦ ء میں اختتام پزير ہوئی تھی۔ دوسری جنگ عظيم مغربی دنیا كے لیے بہت سارے غير معمولی نتائج اور آثار پر مشتمل تھی ۔
انہوں نے اس بات پر تاكيد كرتے ہوئے كہ اگر علم كے مختلف شعبوں كا مطالعہ كيا جائے تو ہم اس نتيجے تك پہنچیں گے كہ مغربی دنيا میں دوسری جنگ عظيم كے بعد ہر شعبے میں علم كی ترقی كا تناسب ۲٦۰۰ سالوں میں ہونے والی مجموعی ترقی كے برابر ہے خيال ظاہر كيا ہے كہ یہ مذاہب بھی ٦۰ اور ۷۰ كی دہائيوں﴿يعنی دوسری جنگ عظيم كے بعد﴾ كی پيداوار ہیں اس لیے ان فرقوں كو «New age movement» كہا جاتا ہے۔
فعالی نے یہ بيان كرتے ہوئے كہ ان فرقوں كے لیے "مجازی اديان" كے نام سے ایک اصطلاح بھی استعمال ہوتی ہے كہا ہے كہ سب سے پہلے تو ان فرقوں كو دين كا عنوان ديا گيا ہے اور پھر ان كو مجازی بھی كہا جاتا ہے ؛ كيونكہ آج دنيا میں ان كی ۷۰ ٪ فعاليتیں فرضی ہیں جبکہ دنيائے حاضر پر یہی فرضی افكار حاكم ہیں ۔ اور تمام انسان مجازی دنيا كی طرف حركت كررہے ہیں ۔
انہوں نے اس بات كی طرف اشارہ كرتے ہوئے كہ آج كی نئی نسل اس فرضی دنيا كے سحر میں پرانی نسل كی نسبت زيادہ گرفتار ہے كہا ہے كہ ہمارے ملك كی نوجوان نسل ان منحرف فرقوں اور مذاہب كے نشانے پر ہے اور ان فرقوں كی وجہ سے ملك كی نئی نسل كو جن آفات اور مشکلات كا سامنا ہے ان كا مقايسہ سابقہ نسلوں سے نہیں كيا جا سكتا ۔
آج كی جوان نسل جعلی مذاہب كے نشانے پر ہے
انہوں نے كہا : اس گفتگو كا ايك اہم نتيجہ یہ ہے كہ آج جوان نسل ان جعلی مذاہب كے نشانے پر ہے اور ان كو لاحق خطرات قديمی نسلوں کی نسبت بہت زيادہ ہیں بالخصوص اس لیے کہ ايران دوسرے ممالك سے مختلف ہے اور بہت سی وجوہات كی بنا پر ايك استثنائی ملك بھی ہے۔
انہوں نے خيال ظاہر كيا : ايران كو باقی ممالك سے ممتاز كرنے والی وجوہات میں سے ايك یہ ہے كہ ايران كی تاريخ عرفان اور روحانيت پر مبنی ہے ہر شخص كے پاس ديوان حافظ ہے اور وہ اس كا مطالعہ كرتاہے ۔ ايران میں سعدی كے گلستان اور بوستان ،غزنوی ، ابو سعيد ابوالخير كی نثر اسی طرح خواجہ عبداللہ انصاری كی منظم نثر مشہور و معروف ہیں۔
انہوں نے اس بات كی طرف اشارہ كرتے ہوئے كہ ايران كی ثقافت مكمل طور پر عرفانی اور روحانی ہے كہا : ايرانی نوجوان عرفانی اور مذہبی تاريخ كے حامل ہیں اسی بنياد پر ايران میں نوجوانوں كا عرفان ﴿كی تمام قسموں﴾كی طرف رجحان ديگر ممالك سے بيشتر ہے یہی علت ہے كہ تمام عالم اسلام میں كوئی بھی ايسا ملك نہیں ہے جو ايران كی مانند مختلف عرفانی فرقوں اور مذاہب کی جانب سے مورد حملہ قرار پايا ہو ۔
انہوں مزيد كہا ہے كہ ايران كی ثقافت جدت پسند ہے اور ہر نئی چيز كی قدر كرتی ہے البتہ یہ جدت پسندی كنزيومرازم كی ثقافت كا ايك حصہ ہے ۔ اگر ان مطالب كو ايك جگہ جمع كيا جائے تو ملك میں نئے اديان كی تٲثير كا بخوبی اندازہ لگايا جا سكتاہے ۔
انہوں نے لفظ "مجازی اديان" كی طرف اشارہ كرتے ہوئے كہا ہے كہ كبھی ان فرقوں كو «New religious movement» نئی ظہورپزير ہونے والی دينی تحريكیں اور كبھی ان كو «New spirituaI movement» نئی روحانی تحريكیں كہا جاتا ہے البتہ ايك اصطلاح جو زيادہ حساسيت كی حامل ہے وہ «Alternative religious» يعنی متبادل دين ہے۔
استاد فعالی نے اس بيان كے ساتھ كہ عصر حاضر میں عرفان كی ان قسموں كو متبادل دين يا اديان كہا جاتاہے خيال ظاہر كيا ہے كہ "كلٹس" كی جانب سے لكھی جانے والی كتابوں كے سادہ سے تجزیے كے ذريعے اس بات كو سمجھا جا سكتاہے كہ ان كی نگاہ میں دين دو ستوں پر مشتمل ہے : پہلا دستہ روايتی اور قديمی اديان يا اديان ابراہيمی جو مسيحيت ، اسلام اور یہوديت پر مشتمل ہے جبكہ دوسرا دستہ نئے جنم لينے والے اديان پر مشتمل ہے ۔
انہوں نے مزيد كہا ہے كہ كلٹس كے پيروكار كہتے ہیں : روايتی اديان بالخصوص اسلام پر عمل كرنے كی تاريخ گزر چكی ہے اور ان سے استفادے كا زمانہ اپنے اختتام كو پہنچ چكا ہے ۔ وہ كہتے ہیں كہ انسان نیا روپ دھار چكا ہے اور اس نئے انسان كو نئے دين كی ضرورت ہے جس پر ان كی دليل یہ ہے كہ جب بھی انسان كے نظريات اور رويوں میں تبديلی آجائے دين كو بھی ان كے مطابق تبديل ہونا چاہيئے۔
استاد فعالی نے كہا : سوال یہ پيدا ہوتا ہے كہ آخر ان فرقوں كو اديان كيوں كہاجاتاہے ؟ اس مطلب میں ايك اہم نكتہ پوشیدہ ہے وہ یہ كہ نئے نو ظہور اديان كے رہنما كہتے ہیں كہ دين كا انتخاب عقل اور عقلانیت كے تابع نہیں ہے مسيحی دنيا میں دين كا انتخاب خواہشات اور احساسات كے تابع ہے ۔ انسان ہر اس دين كو قبول كر سكتاہے جو اس كی خواہشات كے مطابق ہو ۔ مسيحی تعليمات كا عقلانیت اور فلسفی لحاظ سے تعطل كا شكار ہونا اس فکر کے آٰغاز کا باعث بنا ہے لہذا مسيحی اعتقادات اور تعليمات میں كسی قسم كی استدلالی ،منطقی اور عقلی بحث كی كوئی كنجائش نہیں ہے ۔
انہوں نے تاكيد كرتے ہوئے كہا : مثلا تثليث كا عقيدہ كسی عنوان سے بھی عقلی دفاع کے قابل نہیں ہے اسی لیے جب مسيحی تعليمات كا عقلی لحاظ سے دفاع ہی ممكن نہیں تو ضروی ہے كہ كسی ایسے عنصر کی تلاش کرنی چاہیئےجو عقلانيت كے قائم مقام ہو سكے اور یہ عنصر صرف احساسات اور جذبات کی صورت میں ہی جاگزیں ہو سکتاہے ۔ درحالنكہ ہماری توضيح المسائل کی کتابوں میں پہلا مسئلہ یہی ہے كہ اصول دين میں تحقيق اور ان کو عقلانيت كی بنياد پر تسلیم كيا جانا چاہیئے جو اس بات كی نشاندہی كر رہا ہے كہ دين مبين اسلام ترقی كی راہ پر گامزن ہے ۔
جھوٹے عرفان كے دعويدار دين كے انتخاب كو غذا كے انتخاب كی مانند تصور كرتے ہیں
انہوں نے اس بيان كے ساتھ كہ ان كی كتابوں میں اس جملے كو حرف بحرف ايسے ہی استعمال كيا جاتاہے كہ دين كا انتخاب غذا كے انتخاب كی مانند ہے اظہار خيال كيا ہےكہ اس جملے : "جس دين سے بھی تم كو لذت ملے اسی كو انتخاب كرلو" کا مفہوم یہی ہے كہ دين سليقوں كے تابع ہے اور انسانی سليقے مختلف قسم كے ہیں لہذا روحانی فرقوں كو بھی متنوع اور متعدد ہونا چاہيئے ۔
حجة الاسلام فعالی نے كہا : یہ مطلب واضح ہے كہ كرہ ارضی پر لا تعداد متنوع مطالب موجود ہیں یہاں تك كہ ديندار بھی ان میں سے ايك كا انتخاب كر سكتے ہیں اور اس سے لذت اٹھا سکتے ہیں ۔ اسی بنیاد پر ان لوگوں نے اعلان كيا ہے كہ جو بھی جس شريعت كا پيروكار ہے اسے اپنی روحانيت كو ہم سے لينا چاہيئے۔
اس مطلب پر شاہد آج ملك كے مخلتف حصوں میں منعقد ہونے والی وركشاپیں اور كلاسیں ہیں جن میں كسی عنوان سے بھی لوگوں كے مذہبی عقيدوں اور ديگر مشخصات و خصوصيات سے كوئی سروكار نہیں ہوتا ان کو صرف روحانيت ،اخلاق ، عظمت، اور روحانی پرواز كی تلقين كی جاتی ہے ۔
انہوں نے كہا ہے كہ اس روحانيت كی خصوصيت یہ ہے كہ یہ مخاطبین كے اذہان اور افكار كو مشغول كر ديتی ہے اوریہ بالکل وہی حربہ ہے جس كی تلاش نئے اديان كے موجدين كو ہے ۔ خلاصہ یہ کہ متبادل دين سے مراد روئے زمين پر موجود تمام سليقوں كے برابر فرقوں کے وجود کا ہونا ہے یہاں تك كہ ايك حزب اللہی ايرانی شيعہ كے لیے بھی دين موجودہے ۔ اور كيونكہ ان اديان میں روحانيت كا پہلو زيادہ ہے لہذا ان كو روحانی اديان كہتے ہیں اور نو ظہور ہونے کے اعتبار سے ايرانی جدت پسند سليقے كے كافی مناسب بھی ہیں۔
انہوں نے كہا ہے كہ اس طرز فكر كا ہدف تيسری دنيا بالخصوص عالم اسلام اوراس میں بھی خصوصا ايران ہے ۔ ان لوگوں نے تمام ثقافتی حربوں اسی طرح كتابوں سے بھی استفادہ كيا ہے تاكہ ايك مقررہ مدت میں یہ متبادل عنصر اپنی جگہ لے سكے اور تبدیلی كا یہ عمل اس قدرنا محسوس ہے كہ كوئی بھی متوجہ نہیں ہو پائے گا یہاں تک کہ ۵۰ سال بعد معلوم ہو گا كہ كيا واقعہ رونما ہوا ہے ۔
استاد فعالی نے كہا ہے كہ كچھ ايسے دينداراور نماز شب كے پابند افراد تھے جنہوں نے يوگا كی كلاسوں میں شركت كی ﴿يوگا كا محور مراقبہ اور تمركز ہے﴾ اور كچھ عرصے بعد وہ اس نتيجے پر پہنچے كہ انسان كے لیے جو نتيجہ يوگا دے سكتاہے وہ نماز نہیں دے سكتی درحالنكہ كہ صرف نماز ہی وہ ذريعہ ہے جو خدا كے عاشقانہ رابطے كو انسان كے لیے معنی كر سكتا ہے ۔
انہوں نے خيال ظاہر كيا ہے كہ متبادل اديان میں سے ديگر NA يا ترك نشہ كے عنوان سےانجمنیں ہیں جو ممكن ہے کہ نشے كے عادی افراد كا ايك حد تك علاج كریں ليكن انسان كے عقيدے كی بنيادوں كو بلكل كھوكھلا كر ديتی ہیں ۔
آخر میں استاد فعالی نے كہا ہے كہ اب تو حالت یہ ہو چكی ہے كہ آج كتابوں اور ميگزينز میں اس تعبير كا استعمال عام ہو چكا ہے كہ سال ۲۰١۲ ء ؛ فرقوں كے پھيلاؤ كا سال ہے اور یہ موضوع اس وقت پيش كيا جا رہا ہے جب دنيا ايك گلوبل ويلج كی طرف بڑھ رہی ہے ۔
926003