ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی﴿ايكنا﴾ كی رپورٹ كے مطابق حوزہ علمیہ اور يونيورسٹی كے استاد اور نئی جنم لينے والی روحانی تحريكوں كے حوالے سے ۹ كتابوں كے مصنف حجت الاسلام و المسلمين محمد تقی فعالی نے طلباء كی قرآنی سرگرميوں كے ملكی ادارے میں منعقد ہونے والی "جھوٹے عرفان كی آفات سے آشنائی" كے موضوع پر نشست میں اس نظریے كا تنقيدی جائزہ ليتے ہوئے خطاب كيا ہے ۔
استاد فعالی نے اس بات كی جانب اشارہ كرتے ہوئے كہ اپنی گفتگو كے دوران روحانی تحريكوں كا مكمل طور پرعملی اور علمی نگاہ سے جائزہ لیں گے واضح كيا ہے كہ اس وقت ملكی سطح پر چار روحانی تحريكیں فعال ہیں جن میں سے ہر ايك كی جدا جدا توضيح پيش كی جائے گی ، البتہ پہلی تين تحريكوں كو اختصار كے ساتھ اور شديد فكری انحرافات كا شكار چوتھی تحريك كا تفصيل كے ساتھ ذكر كیا جائے گا ۔
انہوں اس بات پر تاكيد كرتے ہوئے كہ پہلی تحريك خالص دينی اور قرآنی عرفان پر مشتمل ہے كہا ہے كہ خالص دينی عرفان كی تين حصوں میں واضحت كی جا سكتی ہے ۔ پہلا حصہ یہ ہے خالص عرفان كا منبع و ماخذ قرآنی آيات اور معصومین(ع) سے منقول احاديث اور دعائیں ہیں جبكہ خالص عرفان كا سنگ بنياد قرآن كريم کی آیات ہیں ۔
انہوں نے اس بات كی جانب اشارہ كرتے ہوئے كہ خالص عرفان وہ ہے جس کی بنیاد قرآنی آیات ، معتبر احاديث اور دعاؤں پر رکھی گئی ہو ، واضح کیا ہے كہ عرفانی مطالب پر مشتمل قرآنی آيات كے بارے میں دو نظريے ملتے ہیں ؛ پہلا نظریہ قرآن کی عرفانی تفسیر کرنے والے مفسرین کا ہے جو اس بات کا دعوی کرتے ہیں کہ قرآن كی تمام آيات عرفانی مطالب كی حامل ہیں ۔
انہوں نے مزيد كہا ہے کہ قرآن كی تفسير كے لیے كم از كم آٹھ روشوں كو پيش كيا گيا ہے جن میں سے كچھ مندرجہ ذيل ہیں : عقلی روش جيسا كے فخر رازی كی "تفسير كبير" اور ايك حد تك زمخشری كی "تفسير كشاف" ہے جن میں قرآن كی تفسير كے لیے عقلی اصول و قواعد كا استعمال كيا گيا ہے ۔ دوسری روش تفسير "مٲثور" کے عنوان سے ہے جس کی مثال سيد بحرانی كی تفسیر "البرھان" اور جلا الدين طوسی كی تفسیر"المنثور" ہے ۔
انہوں نے اس بيا ن كے ساتھ كہ قرآن كی تفسير كے لیے استعمال ہونے والی دیگر روشوں میں ايك قرآن كی عرفانی ،كنائی، اشاری اور تٲويلی يا باطنی رو سے تفسير ہے واضح كيا ہے : اكثر اس طرح كی قرآنی تفسیر كو تفسیر تٲويلی يا باطنی كہا جاتا ہے ۔ عصر حاضر تك تقريبا ۳۰ عرفانی تفسيریں لكھی گئی ہیں ۔ ظاہرا قرآن كی پہلی عرفانی تفسير تيسری ھجری سے مربوط "سھل تستری" كے توسط سے لكھی گئی ہے جو ابھی تك موجود ہے ۔
انہوں نے مزيد كہا ہے كہ گزشتہ تين صديوں كے دوران قرآن كی چند جلدوں پر مشتمل آخری عرفانی تفسير آيت اللہ سيد مصطفی خمينی كے توسط سے لكھی گئی ہے جو سورہ حمد اور سورہ بقرہ كی ابتدائی ۴۰ آيات پر مشتمل ہے ۔
انہوں نے اس بات كی جانب اشارہ كرتے ہوئے كہ اگر سيد مصطفی خمينی كی تفسير مزید جاری رہتی تو اس بات كا قوی امكان تھا كہ یہ تفسير ١۰۰ جلدوں تك پہنچ جاتی خيال ظاہر كيا ہے كہ شہيد مصطفی نے اپنی تفسير میں ہر آٰيت كا مختلف زاويوں سے جائزہ ليتے ہوئے اس کے تمام پہلؤوں کی تفسیر کی ہے ، یہاں تك كہ کچھ آيات کی تفسیر کے دوران علم اعداد اور علم حروف اور آيت سے مربوط فقہی احكام پر بھی بحث و تمحیص كی ہے ۔شہید مصطفی آیت کی تفسیر کے دوران اس کے عرفانی بعد کو مدنظر رکھتے تھے۔
استاد فعالی نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے كہ عرفانی مطالب پر مشتمل تفاسیر ایک دوسرے پر برتری ركھتی ہیں واضح کیا ہے کہ ان تفاسیر کے درمیان پانچویں ہجری سے مربوط قشيری كی تفسیر "لطائف الاشارات" اور ابو الفضل رشيد الدين ميبدی كی شرح کے ہمراہ خواجہ عبداللہ انصاری كی تفسير " كشف الاسرار و عقدة الابرار" کے نام قابل ذكر ہیں ۔
حجة الاسلام والمسلين فعالی نے کہا : قرآن كی عرفانی آيات كے حوالے سے دوسرا نظریہ اس بات كی نشاندہی كرتا ہے كہ قرآنی آيات كی درجہ بندی كی گئی ہے یعنی قرآن كی كچھ آيات علمی مطالب کی حامل ہیں اس نظریہ كے قائلين اس بات كے معتقد ہیں كہ قرآن كی تقريبا ۷۰۰ سے ۹۰۰ آيات علمی مطالب پر مشتمل ہیں ۔ تفسير "المنار" اور "الجواہر" کا شمار انہی مشہور علمی تفاسير میں ہوتا ہے ۔ تفسير المنار میں سيد رشيد رضا نے اعلان کیا ہے كہ قرآن میں ۷۰۰ علمی آيات موجود ہیں ۔ ليكن تفسير الجواہر كے مؤلف طناطاوی نے دعوی كيا ہے كہ قرآن كی ۹۰۰ آيات علمی مطالب پر مشتمل ہیں ۔
انہوں نے مزيد كہا ہے كہ ڈاكٹر پاكنژاد نے بھی اپنی كتاب "آخری پيغمبر(ص) كی پہلی يونيورسٹی" ،اگرچہ یہ كتاب تفسيری نہیں ہے ليكن انہوں نے ڈاكٹر ہونے كی حيثيت سے قرآنی آيات كی علمی تفسير كی ہے ۔ مذكورہ نظریے كے مطابق قرآن كی كچھ آيات فلسفیانہ مفاہيم كی حامل ہیں ۔ یہ آيات برہان ،استدلال اور قرآنی قياس پر مشتمل ہیں ۔ فلسفیانہ مباحث پر مشتمل ان آيات كی تعداد تقريبا ۲۰۰ ہے ۔ مثال كے طور پر آيت «أَفِی اللّهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ» يا آيت «لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ إِلَّا اللَّهُ لَفَسَدَتَا» میں توحيد كے اثبات كے لیے برہان تمانع کا استعمال کیا گیا ہے ۔
انہوں نے مزيد كہا ہے كہ اسی طرح ان قرآنی آيات كے درميان تقريبا ۷۰۰ آيات عرفانی مطالب پر مشتمل ہیں البتہ ان كو عرفانی آيات میں شمار كرنا ان کے اندر عرفانی پہلو كے غلبے کی وجہ سے ہے ۔ كيوں كہ قرآنی آيات مخلتف ابعاد پر مشتمل ہیں یہاں تك كہ قرآن كی چھوٹی سی آيت «قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ» بھی کسی ایک موضوع سے مختص نہیں ہے لہذا اگر مزکورہ دو نظريوں کو باہم جمع كیا جائےتو یہ نتيجہ نكلتا ہے كہ قرآنی آيات کے مابین كچھ آیات عميق عرفانی ،روحانی اور آسمانی مباحث پر مشتمل ہیں لہذا خالص عرفان كا پہلا ماخذ قرآن كی آيات ہیں ۔
حجة الاسلام و المسلمين استادفعالی نے اس بات پر تاكيد كرتے ہوئے كہ خالص عرفان كا دوسرا ماخذ معصومين ﴿ع﴾ كی معتبراحاديث ہیں خيال ظاہر كيا ہے كہ معصومين ﴿ع﴾ سے منقول كچھ روايات خالص ، زيبا اور بہترين عرفانی مطالب كی حامل ہیں جن كی تعداد اعداد و شمار كے مطابق چند ہزار كے قريب ہے ۔
انہوں نے واضح كيا : کچھ سال پہلے جب میں "عرفان حج " کے موضوع پر کتاب لکھ رہا تھا تو مجھے اس باب میں عرفانی مطالب پر مشتمل تقریبا ۵۰۰۰ حدیثیں ملیں جن میں سے ۳۰۰۰ ہزار حدیثوں کو سند اور متن کے ضعیف ہونے کی بنا پر حذف کرنے کے بعد ۲۰۰۰ صحیح اور معتبر احادیث باقی بچی تھیں ۔ البتہ اگر روزے ، نماز اور عقائد كے ابواب میں وارد ہونے والی روايات كا بھی جائزہ ليا جائے تو معصومين﴿ع﴾ سے منقول عرفانی مباحث پر مشتمل احادیث کی تعداد کئی ہزار تک پہنچ جائے گی ۔
910883