سكولوں میں سائنسی تعليم كے ساتھ اسلامی تعليم بھی ضروری ہے

IQNA

سكولوں میں سائنسی تعليم كے ساتھ اسلامی تعليم بھی ضروری ہے

سياسی ،سماجی گروپ : تركی كے شھر نوشھير كے معروف عالم دين جلاءالدين التون كايا نے كہا ہے كہ بچون كی تربيت میں علمی اور سائنسی تعليم كے علاوہ اسلامی، اخلاقی تعليمات اور قرآنی امور كی طرف بھی توجہ كرنی چاہیے كيونكہ مسلمانوں كيلئے ضروری ھے كہ جوانوں اور نوجوانواں كی اسلامی تربيت كی جائے۔
ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ﴿ايكنا﴾ كی رپورٹ كے مطابق تركی میں ہونے والی كانفرنس '' جوانوں اور نوجوانوں كے بارے میں اسلامی نقطہ نظر مشكلات اور انكا حل'' میں شركت كرنے والے جرمنی كے وفد سے جلاءالدين التون كايا نے ملاقات میں كہا بچوں كی تعليم تربيت میں سائنسی تعليم كے ساتھ ساتھ اسلامی اور قرآنی تعليم سے بچوں كی شخصيت پرورش پاتی ہے ۔
انہوں نے مزيد كہا كہ اسلام میں بخشش اور جان نثاری كو بڑی اھميت دی گئے ہے۔اسلامی نقطہ نظر سے گھروالوں سے پہلے مرحلے میں پھر ساتھيوں اور پھر ھمسائيو ں كے ساتھ اچھا سلوك خير و بركت كا باعث ہے۔ اگر ان دينی تعليمات كو لوگ اپنی زندگيوں میں اپنا لیں تو پوری دينا امن اور سلامتی كا گہوارہ بن جائے ۔
1038849