ايران كی قرآنی خبررساں ايجنسی ﴿ايكنا﴾ كی رپورٹ كے مطابق یہ كانگريس 8 دسمبر كی صبح، 30 اسلامی ممالك كے نمائندوں كی موجودگی میں شروع ہوئی اس كا آغاز ايران كے صدر ڈاكٹر محمود احمدی نژاد كے پيغام كے ساتھ كيا گيا۔
ايران كے صدر كے پيغام كا خلاصہ اس طرح تھا: "اسلامی تعليمات كا نفيس مجموعہ مختلف پہلووں میں، ان لوگوں كی جو جہالت اور گمراہی كی راہ پر گامزن ہوتے ہیں، راہنمائی كرتا ہے۔ اگرچہ وہ لوگ جو توحيد اور عدالت پر ايمان ركھتے ہیں اور ہميشہ سعادت اور ترقی كے متلاشی ہیں، الہی تعليمات پر عمل پيرا ہونے كے باعث جہالت كو دور كرسكتے ہیں۔"
اس رپورٹ كے مطابق اس دوسری كانگريس كے سيكرٹری جنرل مہدی باقريان نے تمام شركاء كا شكریہ ادا كرنے كے ساتھ ساتھ اس كانگريس كی رپورٹ پيش كی اور كہا: 30 اسلامی ممالك كے نمائندے اور سفراء نے اس دوسری كانگريس میں شركت كی ہے۔
باقريان نے كہا: اس كانگريس میں پہلی بار محققين كو مدعو كيا گيا اور اس اعلان كے مطابق 150 سے زائد مقالہ جات مسلم محققين اور مفكرين كی جانب سے ارسال ہوئے ہیں اس میں سے 47 آرٹيكلز فارسی اور انگلش زبان میں تحرير كئے جاچكے ہیں۔
1149677