ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ايكنا نے برناما نيوز سنٹر سے نقل كيا ہے كہ احمد رزاك نے كہا كہ اس وقت ملاﺋشيا میں ۱۰ ہزار مساجد موجود ہیں جن سے اگر صحيح استفادہ كيا جاۓ تو ملك كی اقتصاد كے لیے ممد و معاون ثابت ہوسكتی ہیں-
انہوں نے كہا كہ مساجد میں اتنی ظرفيت موجود ہے كہ اسلام كو موجودہ زمانے كے مطابق پيش كر سكیں ناﺋب وزير اعظم جو كہ اﺋمہ جماعت سے گفتگو كر رہے تھے نے كہا كہ مساجد كے اطراف میں شاپنگ سنٹر اور ريسٹورنٹ بنا كر مسلمانوں كی اقتصاد كو بہتر بنايا جاسكتا ہے-
اور مساجد میں فنون كی كلاسز ركھ كر جوانوں كو خانہ خدا كی طرف جذب كيا جاسكتا ہے واضح رہے كہ ملاﺋشياء كی ۲۶ ملين كی آبادی میں مسلمانوں كا تناسب ۶۰ فيصد ہے-