
ایکنا نیوز- صدی البلد نیوز کے مطابق مصر کی اسلامی تحقیقات اکیڈمی کے سیکریٹری جنرل محمد الجندی نے شیخ الازہر احمد الطیب کی نمائندگی کرتے ہوئے اس بین الاقوامی ثقافتی تقریب میں شرکت کی، جو ازبکستان کے اسلامی تہذیبی مرکز کے تعاون سے "ازبکستان – مصر: تہذیبوں اور ورثے کا مکالمہ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔
یہ تقریب اس مناسبت سے منعقد کی گئی کہ ازبکستان کے اسلامی تہذیبی مرکز کو دنیا کے سب سے بڑے اسلامی تہذیبی عجائب گھر کے طور پر گینیز ورلڈ ریکارڈ میں باضابطہ طور پر شامل کیا گیا، جہاں عجائب گھر کی اشیاء کی نمائش کے لیے سب سے زیادہ رقبہ مختص کیا گیا ہے۔
تقریب میں ازبکستان کے وزیر خارجہ بختیار سعیدوف، مصر کے وزیر سیاحت و آثارِ قدیمہ شریف فتحی، ازبکستان کے اسلامی تہذیبی مرکز کے ڈائریکٹر فردوس عبدالخالقاف، مصر کے مفتی اور وزارتِ اوقاف کے نمائندے، مصر کے عظیم عجائب گھر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر احمد غنیم، نیز مصر اور ازبکستان کے علما، محققین اور اسلامی تہذیب و ورثے کے ماہرین نے شرکت کی۔
اسلامی تحقیقات اکیڈمی کے سیکریٹری جنرل نے اپنے خطاب میں کہا کہ ازبکستان کے اسلامی تہذیبی مرکز کا یہ جشن محض ایک عجائب گھر کی کامیابی نہیں بلکہ اس سے کہیں بڑھ کر اہمیت رکھتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ازبکستان ایسی سرزمین ہے جس نے اسلامی تہذیب کی عظیم شخصیات کو جنم دیا، اور اس کا علمی ورثہ آج بھی امتِ مسلمہ کے شعور اور الازہر سمیت اہم علمی اداروں میں زندہ و تابندہ ہے۔
خالد الجندی نے کہا کہ ازبکستان اسلامی تہذیب کی تاریخ کا ایک روشن باب ہے، کیونکہ اسی سرزمین سے ایسے مفکرین اور علماء پیدا ہوئے جنہوں نے اسلامی علوم کے تحفظ اور آئندہ نسلوں تک ان کی منتقلی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان میں امام محمد بن اسماعیل بخاریؒ، مصنف "صحیح بخاری"، امام ابوعیسیٰ ترمذیؒ، امام ابو منصور ماتریدیؒ اور دیگر متعدد علماء شامل ہیں جنہوں نے حدیث، فقہ، تفسیر، زبان و ادب اور انسانی تہذیب کے فروغ میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔
انہوں نے کہا کہ گینیز ورلڈ ریکارڈ میں اسلامی تہذیبی مرکز کی شمولیت دنیا کے لیے ایک تہذیبی پیغام ہے کہ امتِ مسلمہ ایک عظیم علمی و ثقافتی ورثے کی حامل ہے، جس کا تحفظ، مطالعہ اور فروغ نہایت ضروری ہے۔
انہوں نے علمی اور ثقافتی اداروں پر زور دیا کہ وہ اس ورثے کو انسانی تہذیب کے مشترکہ سرمایہ کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کرنے کے لیے باہمی تعاون جاری رکھیں۔
تقریب میں ازبکستان کے اسلامی تہذیبی مرکز پر ایک دستاویزی فلم بھی پیش کی گئی، جس میں مرکز کے قیام کے مراحل، اس کے علمی و ثقافتی مقاصد اور سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا۔ اس کے بعد "ازبکستان کا ثقافتی ورثہ: پوری انسانیت کی مشترکہ میراث" کے عنوان سے ایک نمائش کا افتتاح کیا گیا، جس میں نادر مخطوطات، علمی مطبوعات، تاریخی قرآنِ کریم کے نفیس نسخے اور ایسی دستاویزی منصوبہ جات پیش کیے گئے جنہوں نے ماوراءالنہر کے ثقافتی ورثے کو اجاگر کیا، جو صدیوں تک عالمِ اسلام میں علم و دانش کا ایک اہم مرکز رہا ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ 13 اپریل 2026 کو ازبکستان کے اسلامی تہذیبی مرکز کو باضابطہ طور پر دنیا کے سب سے بڑے اسلامی تہذیبی عجائب گھر کے طور پر تسلیم کیا گیا اور اسے گینیز ورلڈ ریکارڈ کا یہ معتبر اعزاز حاصل ہوا۔
اعزاز دینے کی تقریب گینیز ورلڈ ریکارڈ کی باضابطہ نمائندہ اور جج شیدا سوباشی کی موجودگی میں منعقد ہوئی، جنہوں نے اس مرکز کی جانب سے تمام بین الاقوامی معیاروں کی مکمل پاسداری کی تصدیق کی۔
اس موقع پر وہ معمار، منصوبہ ساز، ڈیزائنر اور تعمیراتی ماہرین بھی موجود تھے جنہوں نے اس عظیم منصوبے کی تکمیل میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ اعزاز مرکز کی سائنسی کونسل کے اراکین کو پیش کیا گیا۔/
4358089