
ایکنا نیوز- نیوز ایجنسی "المشاہد" کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 82 سال سے زائد عمر کی حامل حاجیہ مریم الرمیمہ، اگرچہ کمزور جسم اور عمر بھر کی مشقتوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں، لیکن آج بھی غیرمعمولی ذہنی توانائی رکھتی ہیں۔ بیماری کے بستر پر بھی ان کے چہرے پر ایک خاص سکون نمایاں ہے، جو اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ مضبوط ارادہ انسانی زندگی کے بڑے سے بڑے چیلنج کو شکست دے سکتا ہے۔
ان کے اکلوتے بیٹے اور تین بیٹیوں کے ذہن میں ایک ماں کی حیثیت سے ان کی یادیں محفوظ ہیں، لیکن ان کے 21 نواسوں اور پوتوں کے لیے دادی کی تصویر دو مناظر سے وابستہ ہے: ایک، وہ دادی جو ہاتھ میں ٹیپ ریکارڈر تھامے مشہور قاری فارس عباد کی تلاوتِ قرآن توجہ سے سنتی تھیں، اور دوسرا، وہی دادی جو انہی آیات کو انتہائی مہارت اور روانی کے ساتھ خود تلاوت کرتی تھیں۔
یمن کے صوبہ تعز میں جبلِ صبر کے دامن میں واقع گاؤں حدنان میں پیدا ہونے والی حاجیہ مریم ایسے دور میں پروان چڑھیں جب لڑکیوں کے لیے تعلیم کے مواقع تقریباً ناپید تھے اور ان کی زندگی کا محور کھیتی باڑی اور گھریلو ذمہ داریاں ہی سمجھی جاتی تھیں۔
انہوں نے اپنی زندگی کے کئی عشرے ایک محنتی دیہاتی خاتون کے طور پر گزارے۔ وہ ایک کامیاب گھریلو خاتون اور محنت کش کسان تھیں جو اپنے خاندان کی کفالت کے لیے دن رات زمین پر کام کرتی رہیں۔ لیکن ان کے دل میں ایک عظیم خواب زندہ تھا: اَن پڑھ ہونے کے باوجود پورے قرآنِ کریم کو حفظ کرنا۔
ان کے بیٹے شیخ مختار الرمیمہ نے گاؤں میں ایک قرآنی حفظ مرکز قائم کیا، جو ان کی والدہ کے لیے سب سے بڑی تحریک ثابت ہوا۔ بالآخر 2006ء میں، جب وہ ساٹھ برس کی عمر میں داخل ہو چکی تھیں، انہوں نے اپنے خواب کو حقیقت میں بدلنے کا فیصلہ کیا۔
حاجیہ مریم کا روزانہ کا معمول انتہائی منظم تھا۔ نماز عصر کے بعد وہ حفظ کے حلقے میں جاتیں، جہاں پہلے سے یاد کی گئی آیات سناتیں اور نئی آیات حاصل کرتیں۔ مغرب اور عشاء کے درمیان وہ اپنے مستقل ساتھی، یعنی ٹیپ ریکارڈر اور کیسٹ ٹیپس کی مدد سے سبق کو دہراتیں۔ فجر سے کئی گھنٹے پہلے بیدار ہو کر نماز ادا کرتیں اور دوبارہ قرآن سنتیں، یوں سماعت کے ذریعے آیات کو اپنی یادداشت میں نقش کرتی رہتیں۔
دس سالہ محنت کے بعد کامیابی
حاجیہ مریم نے مسلسل دس برس قرآنِ کریم کے ساتھ رفاقت میں گزارے۔ بالآخر 2016ء میں وہ یادگار لمحہ آیا جب انہوں نے قرآنِ کریم کی آخری آیت بھی حفظ کر لی۔ اس موقع پر ان کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو بہنے لگے اور انہوں نے طویل سجدۂ شکر ادا کیا۔
یہ لمحہ صرف ایک ذاتی کامیابی نہیں تھا بلکہ عمر بھر کی محرومیوں، دس سال کی مسلسل محنت اور اللہ کے کلام سے گہری وابستگی کا ثمر تھا۔ اس وقت انہیں ایسا روحانی سکون نصیب ہوا جو ان کے چھوٹے سے گھر کی حدود میں بھی سمٹ نہیں سکتا تھا۔
ان کی اس کامیابی نے نہ صرف خاندان بلکہ پورے معاشرے کو متاثر کیا۔ ان کے 21 بیٹے، بیٹیاں اور پوتے پوتیاں، جن میں سے اکثر اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں، اپنی اَن پڑھ دادی کی اس عظیم کامیابی پر حیرت زدہ رہ گئے۔ حاجیہ مریم نے ثابت کر دیا کہ اخلاص، استقامت اور قرآن سے محبت کے سامنے عمر، تعلیم اور جسمانی کمزوریاں رکاوٹ نہیں بن سکتیں۔/
4358134