IQNA

9:13 - April 13, 2019
خبر کا کوڈ: 3505982
بین الاقوامی گروپ- عالمی سطح پر متعدد بار مقابلہ جیتنے والی لبنان کی حافظہ فاطمہ حسین یونس نے ایرانی مقابلوں کے لیے تجویز پیش کردی۔

ایکنا نیوز- ایران میں جاری عالمی قرآنی مقابلوں میں ایک عجیب واقعہ یہ ہوا کہ پہلی بار لبنان کی نابینا حافظہ

فاطمه حسین یونس اور ایران کی نابینا حافظہ مریم شفیعی نے دیگر حفاظ کے مقابلوں میں حصہ لیا۔

 

بیس سالہ فاطمه حسین لبنا یونیورسٹِی میں ادبیات کی طالبہ ہے جو سال ۲۰۱۷ کو حسن قرآت کے مقابلوں میں ایران میں تیسری پوزیشن حاصل کرچکی ہے، انہوں نے ایکنا نیوز سے گفتگو میں ایرانی مقابلوں کے معیار کو سراہتے ہویے کہا کہ خواتین مقابلوں میں انتہایی باصلاحیت طالبات شریک ہیں۔

 

 

خواتین نابیناوں کے لیے الگ مقابلہ

 

فاطمه یونس نے کہا کہ جسطرح سے طلباء نابیناوں کے لیے الگ مقابلہ حفظ منعقد کیا گیا ہے میری تجویز ہے کہ خواتین نابینا حافظات کے لیے بھی الگ کیٹگری تیار کیا جایے۔

 لبنانی حافظہ نے ایران کے مقابلوں کے حوالے سے کہا کہ ہرسال مقابلہ سخت سے سخت تر ہوتا جارہاہے اور ہمارے تجربے میں بھی اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

 ایک سوال کے جواب میں فاطمہ نے کہا کہ میں نے پندرہ سال کی عمر میں ساڑھے تین سال کی محنت سے قرآن حفظ کرلیا۔

لبنانی نابینا حافظ قرآن کا اعزاز اور تجویز

 

فاطمه یونس نے عالم اسلام کے اتحاد میں قرآن کو موثرترین قرار دیتے ہویے کہا کہ آج کے حالات میں مسلم امہ کو وحدت کی اشد ضرورت ہے۔

 

لبنانی حافظہ نے ایران کے سفر کو خوشگوار قرار دیتے ہویے کہا کہ یہاں آکر خوشی محسوس ہوتی ہے۔

 

لبنان میں نابیناوں کے مقابلے کا فقدان

 

لبنانی حافظہ نے کہا کہ لبنان کے قومی مقابلوں میں چار بار پوزیشن ہولڈر رہ چکی ہوں تاہم وہاں سب کے ساتھ ملکر مقابلہ کرنا پڑتا ہے کیونکہ وہاں الگ سے اسپشل افراد کے لیے مقابلہ منعقد نہیں کیا جاتا۔

 

فاطمہ نے سوشل میڈِیا کے درست استعمال کو مفید قرار دیتے ہویے کہ کہ قرآن اصول، فنون اور تفاسیر کے لیے مجھے یوٹیوب سے کافی مدد ملی ہے اور حفظ میں بھی موثر ہوسکتا ہے۔

 

خواتین قرآنی مقابلے تہران کے ہوٹل  «هما»میں تین روز جاری رہنے کے بعد گذشتہ روز اختتام پذیر ہویے۔/

3802850

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: