
ایکنا نیوز- العربی الجدید نیوز نے رپورٹ کیا کہ ترکی کا شہر استنبول اس وقت یازدہویں عالمی حلال اجلاس اور بین الاقوامی حلال ٹریڈ ایکسپو 2025 کی میزبانی کر رہا ہے جس کا انعقاد 26 تا 29 نومبر (5 تا 8 آذر) تک جاری رہا۔
اجلاس کی مجلس کے مطابق یہ عالمی اجتماع 50 سے زائد ممالک کی سرکاری شرکت اور 100 سے زیادہ ممالک کے نمائندگان کے ساتھ ہوا، جبکہ وزٹرز کی تعداد 50 ہزار سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔
یہ اجلاس عالمی سطح پر صنعتِ حلال کا سب سے اہم و نمایاں پلیٹ فارم تصور کیا جاتا ہے، جہاں پیش گوئی کی گئی ہے کہ آئندہ برسوں میں حلال مارکیٹ کا حجم 12 ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔
اجلاس کے نمایاں حصے
اجلاس کے دوران:
بین الاقوامی حلال ایکسپو
ETHEXPO صحت و سیاحت نمائش
عالمی سپلائرز کانفرنس
روایتی اسلامی ملبوسات کی فیشن نمائش
تجارتی رابطہ سازی (B2B Networking)
بین الاقوامی تجارتی فورمز
جیسے بڑے ایونٹس شامل ہیں جن کا مقصد کاروباری تعاون، سرمایہ کاری میں اضافہ اور عالمی حلال مارکیٹ کی معاشی اہمیت اجاگر کرنا ہے، تاکہ ترکی کو عالمی حلال مرکز کی حیثیت مزید مستحکم ہو۔
معیاری سرٹیفیکیشن اور اعتماد کی ضرورت
افتتاحی اجلاس سے مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حلال صنعت میں بہت وسعت و ترقی ہو رہی ہے۔ امرے اَتَه (نائب صدر عالمی حلال کونسل) نے بتایا کہ موجودہ حلال مارکیٹ کا حجم 8 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے، جو آئندہ 5 سال میں 12 ٹریلین ڈالر سے بھی زیادہ ہونے کا امکان ہے۔
شرکاء نے مطالبہ کیا کہ عالمی متحدہ حلال سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے تاکہ صارفین کا اعتماد بڑھے اور دنیا بھر میں حلال مصنوعات تک رسائی آسان ہو۔ ہشام بن سعد الجضعی (ہیڈ، فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی سعودی عرب) نے کہا کہ حلال صنعت تیزی سے ترقی کرنے والا عالمی اقتصادی میدان بن چکی ہے اور مستقبل میں ایک معیاری معاشی چھلانگ کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
مقررین نے مزید زور دیا کہ حلال ترقی کے لیے بنیادی اصولوں پر توجہ دی جائے جن میں شامل ہیں:
سرٹیفیکیشن و معیارات کی یکسانیت
زیادہ شفافیت کیلئے عالمی ڈیجیٹل نظام
جدید ٹیکنالوجی کا استعمال
ممالک اور کمپنیوں کو قابل اعتماد پیداوار کی طاقت دینا
ترک محقق توران قشلاقچی نے کہا کہ عالمی سطح پر بڑھتی مانگ کے پیش نظر حلال اکنامی کے لیے قانونی و ساختی ضابطوں کی ضرورت ہے، جس میں مشترکہ قوانین، تجارتی قواعد اور حفاظتی میکانزم شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حلال اب ایک مربوط عالمی اقتصادی نظام بن چکا ہے جو مسلم ممالک کی عالمی معیشت میں پوزیشن کو بلند کر رہا ہے۔/
4319728