مسجد «ملک» البانیہ میں کھولی جارہی ہے

IQNA

مسجد «ملک» البانیہ میں کھولی جارہی ہے

9:41 - January 28, 2026
خبر کا کوڈ: 3519848
البسان شھر کی تاریخی عبادت خانہ مسجد «ملک» کو مرمت و آرائش کے بعد دوبارہ کھولی جارہی ہے۔

ایکنا نیوز- مسلمون حول العالم نیوز کے مطابق وسطی البانیہ کے شہر الباسان میں واقع تاریخی جامع مسجد «ملک» (بادشاہ) کی مرمت اور بحالی کا کام اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے، اور توقع ہے کہ یہ مسجد جلد ہی نمازیوں اور زائرین کے لیے دوبارہ کھول دی جائے گی۔ یہ اقدام عثمانی دور کے اسلامی ورثے کے تحفظ اور اس شہر کی ثقافتی و تاریخی حیثیت کو فروغ دینے کے مقصد سے انجام دیا جا رہا ہے۔

اسی سلسلے میں الباسان کے میئر، شہر کے مفتی اور ترک تعاون و ہم آہنگی ایجنسی (TIKA) کے نمائندوں نے شہر کے مرکز میں واقع تاریخی قلعہ (ارگ) کے علاقے میں موجود مسجد کا میدانی دورہ کیا، تاکہ مرمتی کام کی پیش رفت کا جائزہ لیا جا سکے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ یہ منصوبہ اپنے اختتامی مراحل میں ہے اور مستقبل قریب میں مسجد کی دوبارہ بحالی اور افتتاح کی راہ ہموار ہو چکی ہے۔

مسجدِ ملک کی تاریخی حیثیت

مسجدِ ملک، الباسان کی نمایاں ترین تاریخی عمارتوں میں سے ایک ہے اور وسطی البانیہ میں اسلام کی ابتدائی موجودگی کی ایک اہم علامت سمجھی جاتی ہے۔ اس مسجد کی تعمیر پندرہویں صدی کے اواخر میں سلطان بایزید ثانی کے حکم پر کی گئی تھی۔ یہ شہر کی قدیم ترین مسجد ہے اور بلقان خطے کی تاریخ کے ایک اہم دور سے وابستہ ایک ممتاز معماری یادگار کی حیثیت رکھتی ہے۔

یہ مسجد صدیوں سے اپنے گرد و نواح میں ایک مؤثر عبادی اور ثقافتی مرکز کے طور پر کام کرتی آ رہی ہے اور شہر کی روحانی و سماجی زندگی میں اس کا نمایاں کردار رہا ہے۔

مسجدِ ملک میں مردوں کے لیے الگ نماز ہال اور دوسری منزل پر خواتین کے لیے نماز گاہ موجود ہے۔ شمالی جانب واقع نماز گاہ کے داخلی دروازے سے قبل ایک راہداری بھی ہے، جہاں وہ افراد نماز ادا کر سکتے ہیں جو جماعت میں شامل نہ ہو سکیں۔

اس مسجد کی چھت لکڑی کی ہے اور متعدد تہوں پر مشتمل ہے، جبکہ یہ مسجد بیک وقت ۶۰۰ سے ۷۰۰ نمازیوں کی گنجائش رکھتی ہے۔

یہ مسجد ۱۹۱۳ء میں مکمل طور پر دوبارہ تعمیر کی گئی اور اس کے لیے ایک نیا مینار بنایا گیا، کیونکہ اس سے قبل یہ عمارت کمیونسٹ دور میں مکمل طور پر منہدم کر دی گئی تھی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس مسجد کی بحالی اور مینار کی تعمیر، دیگر بہت سی مساجد کے برعکس—جن کی تعمیر کے اخراجات عموماً عرب اور ترک اداروں نے برداشت کیے—الباسان کے مقامی مسلمانوں کے عطیات سے انجام پائی۔ یہ امر اس تاریخی مسجد کی مسلمانوں کے درمیان خصوصی اہمیت اور اس کی مرمت و تجدید کے لیے ان کی گہری وابستگی کو ظاہر کرتا ہے۔

الباسان کے میئر نے وضاحت کی کہ یہ مرمتی منصوبہ مقامی حکام کے اس عزم کا حصہ ہے جس کے تحت عبادت گاہوں کا تحفظ اور ثقافتی ورثے کی نگہداشت کی جا رہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایسی تاریخی عمارتیں شہری ڈھانچے کا لازمی حصہ ہوتی ہیں جو ماضی کو حال سے جوڑتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مسجد کی دوبارہ بحالی کے بعد یہ مقام سیاحوں اور عثمانی تاریخ و معماری سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے ایک اہم مرکز بن جائے گا، خاص طور پر اس لیے کہ مرمت کا یہ منصوبہ تاریخی قلعہ (ارگ) کی بحالی کے منصوبے کے ساتھ ہم آہنگ ہے، جو ثقافتی سیاحت کے لیے نمایاں صلاحیت رکھتا ہے۔

توقع کی جا رہی ہے کہ یہ منصوبہ مقامی معیشت کو تقویت دینے، ثقافتی سیاحت کے نئے مواقع پیدا کرنے اور الباسان کو البانیہ کے تاریخی و سیاحتی نقشے پر مزید نمایاں کرنے میں مؤثر کردار ادا کرے گا۔

نظرات بینندگان
captcha