
بحرینی انقلابی عالم دین نے کہا ہے کہ رہبر معظم انقلاب اسلامی کے خلاف کسی بھی قسم کی دھمکی یا دراندازی کے نتیجے میں وسیع پیمانے پر رد عمل اور غیر متوقع خطرناک نتائج سامنے آئیں گے۔
بحرینی انقلابی عالم دین شیخ عبدالله الدقاق نے اپنے بیان میں امریکی صدر کی جانب سے امام خامنہ ای کے خلاف دھمکیوں کی مذمت کرتے ہوئے ان بیانوں کو سفارتی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور خطے اور دنیا میں اس کے خطرناک اور غیر متوقع نتائج سے خبردار کیا ہے۔
انہوں نے رہبر معظم انقلاب اسلامی کی دینی اور روحانی حیثیت پر زور دیتے ہوئے کہا: حضرت آیت اللہ خامنہ ای صرف ایک سیاسی رہنما نہیں ہیں، بلکہ وہ اسلامی دنیا کے ایک بڑے اور مؤثر مرجع ہیں جن کی مختلف ممالک میں کروڑوں افراد تقلید اور پیروی کرتے ہیں۔
شیخ الدقاق نے مزید کہا: اس دینی اور روحانی عظیم شخصیت کے خلاف کسی بھی قسم کی دھمکی یا دراندازی کے نتیجے میں وسیع پیمانے پر رد عمل اور غیر متوقع خطرناک نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے رہبر معظم انقلاب اسلامی کے خلاف دھمکیوں کو اشتعال انگیز اور غیر ذمہ دارانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا: ایسے رویے نہ صرف خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں بلکہ ان کے جغرافیائی حدود سے باہر بھی نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔ عالمی برادری کو ایسے موقف کے نتائج کے بارے میں ہوشیار رہنا چاہیے۔
taghribnews