اسپین میں سیاحوں کو جذب کرنے کے حوالے سے تحقیق کا اعلان

IQNA

اسپین میں سیاحوں کو جذب کرنے کے حوالے سے تحقیق کا اعلان

9:43 - January 28, 2026
خبر کا کوڈ: 3519849
میڈریڈ نمائش میں صہیونی کمپنی کی جانب سے سیاحوں کو مقبوضہ علاقوں میں ترغیب بارے تحقیق کی جائے گی۔

ایکنا نیوز-  عربی 21 کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اسپین کی وزارتِ سماجی حقوق اور امورِ صارفین نے بین الاقوامی سیاحتی نمائش FITUR میں شریک بعض مشکوک اسرائیلی کمپنیوں کے خلاف باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ یہ نمائش 21 سے 25 جنوری تک میڈرڈ میں منعقد ہوئی تھی۔ ان کمپنیوں پر الزام ہے کہ انہوں نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے لیے سیاحتی پیکجز فروخت کیے یا ان کی تشہیر کی۔

وزارت نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ تحقیقات اس بات کا تعین کرنے کے لیے شروع کی گئی ہیں کہ آیا اس نمائش میں اسرائیلی پویلین میں شریک کمپنیوں نے مقبوضہ فلسطینی سرزمین کی جانب سیاحتی سفر غیر قانونی طور پر منظم یا تشہیر کیے یا نہیں، جو کہ ممکنہ طور پر اسپین کے قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔

وزارت نے وضاحت کی کہ ستمبر 2015ء میں اسپین کی حکومت کی جانب سے غزہ کی پٹی میں نسل کشی کے مقابلے کے لیے فوری اقدامات اور فلسطینی عوام کی حمایت سے متعلق منظور کیے گئے شاہی فرمان کی دفعہ 4 کے تحت مقبوضہ علاقوں سے متعلق اشیاء اور خدمات کی تشہیر صراحتاً ممنوع ہے۔

وزارت نے اس امر پر زور دیا کہ نمائش کے دوران اس قانونی شق کی خلاف ورزی کے بارے میں سنگین شبہات پائے جاتے ہیں۔ مزید کہا گیا کہ تحقیقات میں ایسے الزامات بھی شامل ہیں جن کے مطابق نمائش FITUR میں اسرائیلی پویلین میں شریک بعض سیاحتی کمپنیوں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں واقع اسرائیلی بستیوں کے لیے سیاحتی پیکجز پیش کیے، جو اسپین کے قانون کے مطابق غیر قانونی تشہیر کے مترادف ہو سکتے ہیں۔

وزارت نے یہ بھی بتایا کہ ایسے مزید دعوے سامنے آئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض اسرائیلی کمپنیوں نے مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف مقامات کے لیے سیاحتی دوروں کی تشہیر کی، جو ان علاقوں کی قانونی حیثیت کو کھلے عام نظرانداز کرنے کے مترادف ہے۔

وزارتِ سماجی حقوق اور امورِ صارفین نے واضح کیا کہ ان تحقیقات کا مقصد ان کمپنیوں کی نشاندہی کرنا ہے جو مقبوضہ علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں سے متعلق سیاحتی اشیاء اور خدمات کی فروخت یا تشہیر کر رہی ہیں، اور اگر خلاف ورزی ثابت ہو جائے تو ان کے خلاف ضروری قانونی کارروائی کی جائے گی۔

رپورٹ کے مطابق، مقبوضہ مغربی کنارے میں واقع سینکڑوں بستیوں اور فوجی اڈوں میں آباد اسرائیلی آبادکاروں کی تعداد تقریباً 7 لاکھ 70 ہزار بتائی جاتی ہے، جن میں سے تقریباً 2 لاکھ 50 ہزار مشرقی بیت المقدس میں مقیم ہیں۔ یہاں آبادکار تقریباً روزانہ کی بنیاد پر فلسطینیوں کے خلاف حملے اور یورشیں کرتے ہیں، جو انہیں زبردستی بے دخل کرنے کی منظم پالیسی کا حصہ سمجھی جاتی ہیں۔

فلسطینی اتھارٹی کے ماتحت دیوارِ حائل اور بستیوں کے خلاف مزاحمتی کمیشن کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، سال 2025ء کے دوران آبادکاروں نے 4 ہزار 723 حملے کیے، جن کے نتیجے میں 14 فلسطینی شہید ہوئے اور بدوی آبادی کے 13 گروہ جن میں تقریباً 1 ہزار 90 افراد شامل تھے،اپنے گھروں سے بے گھر ہو گئے۔

8 اکتوبر 2023ء سے غزہ کی پٹی کے خلاف جاری نسل کش جنگ کے آغاز کے بعد سے، اسرائیلی قابض افواج اور آبادکاروں نے بستیوں کی توسیع میں تیزی لانے کے ساتھ ساتھ مقبوضہ مغربی کنارے میں اپنی خلاف ورزیوں میں بھی شدید اضافہ کر دیا ہے، جن میں قتل، گھروں کی مسماری اور فلسطینی آبادی کی جبری بے دخلی شامل ہیں۔

نظرات بینندگان
captcha