
ایکنا نیوز- صوت الشیعہ نیوز کے مطابق جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی کے سخت بیانات کے بعد بھارت میں بحث و تنازع میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ مسلمانوں کے خلاف منظم اور سسٹمیٹک پالیسی پر عمل پیرا ہے اور انہیں اپنے ہی وطن میں ترقی اور کامیابی سے روک رہی ہے۔
مولانا مدنی نے کہا کہ مسلم طلبہ اور سماجی طبقات پر دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اور بعض سکیورٹی واقعات کو بنیاد بنا کر ان کے خلاف سخت اقدامات کو جائز ٹھہرایا جاتا ہے، حالانکہ حقائق اس کے برعکس ہیں اور سیاسی و میڈیا بیانیہ مسلمانوں کی منفی تصویر پیش کرکے انہیں اجتماعی الزام کے چکر میں دھکیل رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ المیہ یہ ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک میں مسلمان نیویارک اور لندن جیسے بڑے شہروں کی میئر شپ جیسے اعلیٰ عہدوں تک پہنچ چکے ہیں، لیکن اپنے ہی ملک میں مسلمان ظلم، تنگی اور بے بنیاد الزام تراشی کا شکار ہیں اور ثبوت سے پہلے ہی مجرم سمجھ لیے جاتے ہیں۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب جامعہ الفلاح سے متعلق مقدمات کی تحقیقات جاری ہیں، جنہیں مسلمانوں کے مطابق نگرانی اور ہراسانی بڑھانے کے بہانے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال نے مسلمانوں میں یہ احساس مزید بڑھایا ہے کہ انہیں عوامی اور سماجی میدانوں سے محدود کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت کے ایک بڑے مذہبی رہنما کی جانب سے یہ تنقیدی بیان واضح کرتا ہے کہ مسلمانوں اور ریاستی اداروں کے درمیان خلیج تیزی سے بڑھ رہی ہے۔/
4319886