علامه عبدالعلی هروی تهرانی؛ محفل لاهور سے دینی افکار تک

IQNA

علامه عبدالعلی هروی تهرانی؛ محفل لاهور سے دینی افکار تک

5:44 - December 02, 2025
خبر کا کوڈ: 3519583
ایکنا: علامہ شیخ عبدالعلی ہروی تہرانى کی علمی و فکری سرگرمیاں خراسان (ہرات)، ایران اور برصغیر کے جغرافیائی خطوں میں پھیلی ہوئی ہیں۔

ایکنا نیوز پاکستان کے مطابق علامہ شیخ عبدالعلی ہروی تہرانى (۱۲۷۷─۱۳۴۱ ہجری قمری) شیخ احمد کے فرزند اور بیسویں صدی کے آغاز میں دنیاے اسلام کی نمایاں علمی و روحانی شخصیات میں سے ایک تھے۔ نصی و عرفانی علوم کے جامع امتزاج اور لسانی و تدریسی مہارتوں کے سبب آپ نے نہ صرف اہلِ علم بلکہ عوام میں بھی بلند مقام حاصل کیا۔

 علامہ ہروی تہرانى کی شخصیت کا نمایاں پہلو ان کی مؤثر خطابت، علوم عقلی و نقلی پر دسترس اور اقبال لاہوری جیسے معاصر مفکرین کی فکری رہنمائی ہے۔ ان کی زندگی اور علمی میراث کا درست جائزہ لینے کے لیے منتشر تاریخی و علمی ماخذات کا یکجا مطالعہ ضروری ہے۔ یہ مقالہ دستیاب حوالوں کی روشنی میں علامہ کی زندگی، آثار، نظریات اور اثرات کا منظم اور جامع خاکہ پیش کرنے کی کوشش ہے۔

زندگی نامہ

علامہ عبدالعلی ہروی تہرانى ۱۲۷۷ ہجری قمری میں مشہد میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کی اور پھر مدرسہ فیض میں داخل ہوئے جہاں ان کے ہم درس شیخ محمد کاظم خراسانی تھے۔ آپ نے ظاہری علوم کے ساتھ باطنی علوم میں بھی گہری دلچسپی رکھی اور ملا محمد اکبر ترشیزی سے تزکیہ نفس کے اصول سیکھے۔ کچھ عرصہ ہرات میں قیام کے بعد مزید دینی تعلیم کے لیے عراق کا سفر کیا اور پھر عہدِ ناصرالدین شاہ میں ایران تشریف لائے، جہاں روایت ہے کہ بادشاہ نے انہیں وزارتِ خارجہ کے نائب وزیر کا عہدہ پیش کیا اور آپ نے مدّتِ قلیل تک اس منصب کو قبول بھی کیا۔

بعد ازاں آپ ہندوستان آئے اور لاہور میں سکونت اختیار کی، جہاں علمی و تبلیغی سرگرمیوں کا آغاز کیا اور یہیں آپ کی ملاقات شاعرِ مشرق علامہ اقبال سے ہوئی۔ آپ تفسیر، حدیث، فقہِ مقارن، کلام اور فلسفہ پر مکمل عبور رکھتے تھے اور عربی و فارسی کے علاوہ ترکی، روسی اور فرانسیسی زبانوں سے بھی واقفیت رکھتے تھے۔ یہی لسانی و فکری پھیلاؤ انہیں عوام، علما، طلاب اور سیّد طبقات تک یکساں رسائی کا سبب بنا۔

برصغیر میں آپ نے وعظ و تبلیغ کا وسیع سلسلہ قائم کیا اور لاہور سے ماہنامہ "البرہان" جاری کیا۔ علامہ محمد سبطین سرسوی کے مطابق جب وہ پنجاب اور سندھ پہنچے تو وہاں کے شیعہ عوام مصائبِ اہلِ بیتؑ کے بارے میں زیادہ تر غیر مستند حکایات سے آگاہ تھے، چنانچہ علامہ نے اُن روایات کے بجائے حقیقی اور معتبر مصائب بیان کیے۔

انہوں نے کراچی، شکارپور، پنجاب، پشاور و کوہاٹ سمیت متعدد علاقوں میں وعظ و تدریس کی۔ ان کی علمی و تبلیغی خدمات کا دائرہ اس قدر وسیع تھا کہ وہ ایک جانب علمی حلقوں میں شامل رہے اور دوسری جانب عام عوامی اجتماعات سے خطاب کرتے رہے۔ یہی دوہرا تعلق ان کی مؤثر اور دیرپا اثر پذیری کا بنیادی سبب تھا۔

علمی طرز اور تدریسی طریقہ

ان کے علمی طریقِ کار میں استدلالِ نقلی اور رجحانِ عرفانی و اخلاقی کا حسین امتزاج پایا جاتا تھا۔ وہ آیات و روایات کی روشنی میں دلائل پیش کرتے اور ساتھ ہی سلوک و تزکیہ کے عملی پہلوؤں کو اجاگر کرتے تھے۔

وعظ و تدریس میں ان کا انداز نہایت سادہ، واضح اور مؤثر تھا۔ وہ عوامی مجالس میں مقامی اور عوامی لہجوں، سندھی، پنجابی اور پشتو سے بھی استفادہ کرتے، جس سے ان کی بات براہِ راست عام افراد تک پہنچتی اور دلوں میں اتر جاتی۔ بین‌الثقافتی و بین‌السانی خطاب انہی کا امتیازی جوہر تھا۔

تصانیف، مواعظ اور نشریات

علامہ کی جانب منسوب متعدد مختصر تالیفات و مواعظ "مواعظِ حسنہ" اور دیگر مقامی رسائل کی صورت میں شائع ہوئیں۔ ان کی تحریریں عمومی سطح کے قارئین اور متوسط درجے کے طلاب کے لیے زیادہ مناسب تھیں، نہ کہ خالص علمی و تخصصی نوعیت کے لیے۔ وہ اخلاقی تربیت، دینی شعور اور روحانی بالیدگی کو تحریر و تقریر کا بنیادی مقصد بناتے رہے۔/

 

4320071

نظرات بینندگان
captcha