سرخ سمندر فلم فیسٹیول؛ سینما فرصت یا سعودی تبلیغات ؟

IQNA

نوٹ؛

سرخ سمندر فلم فیسٹیول؛ سینما فرصت یا سعودی تبلیغات ؟

16:16 - December 08, 2025
خبر کا کوڈ: 3519616
ایکنا: غیر رسمی سنسرشپ اور ایک اسلامی ملک کی حیثیت رکھنے والے سعودی عرب کے تشخص اور فیسٹیول کی کچھ محافل میں پائی جانے والی بے راہ روی کے درمیان واضح تضاد نے اس پروگرام کے اصل مقاصد پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔

ایکنا نیوز کے مطابق، ریڈ سی انٹرنیشنل فلم فیسٹیول سن 2019 سے سعودی عرب کے شہر جدہ میں منعقد ہو رہا ہے۔

اس کا باضابطہ مقصد ملک میں سینما کی ترقی، فلمی صنعت کو مضبوط بنانا، اور علاقائی و عالمی فلمسازوں کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔

یہ فیسٹیول مختلف ممالک کے فلمسازوں کی بڑی تعداد، متنوع فلموں کی نمائش اور ثقافتی تبادلے کے مواقع کے ذریعے سعودی عرب کی سینما کو عالمی سطح پر متعارف کرانے میں کردار ادا کر رہا ہے۔

منتظمین کا دعویٰ ہے کہ اس فیسٹیول میں "سنسرشپ" نہیں ہوگی اور فلموں کو زیادہ آزادی کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔

انسانی حقوق کی "سفیدشویی" (Whitewashing)

فیسٹیول پر سب سے بڑی تنقید یہ ہے کہ یہ سعودی عرب کے انسانی حقوق کے ریکارڈ کو "اچھا" دکھانے کا ایک ذریعہ ہو سکتا ہے، جسے بعض ماہرین "سفیدشویی" یا reputation laundering کہتے ہیں۔ منتقدین کا کہنا ہے کہ سعودی حکومت فن و ثقافت کی چمک دمک کے ذریعے خود کو ایک جدید، کھلے اور لبرل ملک کے طور پر پیش کرنا چاہتی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہاں تنقید کرنے والوں کی گرفتاریوں، اظہارِ رائے کی پابندیوں اور دیگر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

ایک اور بڑی تنقید یہ ہے کہ سعودی عرب کی اسلامی شناخت—جہاں حرمِ کعبہ واقع ہے—کے ساتھ فیسٹیول کی کچھ محافل میں دکھائی دینے والی بے حجابی، مغربی طرز زندگی اور غیر اخلاقی حرکات ایک کھلا تضاد پیدا کرتی ہیں۔ یہ رویے مذہبی و اخلاقی اقدار کے مقابل ایک ایسا ماحول تشکیل دیتے ہیں جس سے سینما کا اصل اور مثبت کردار پس منظر میں چلا جاتا ہے۔

نتیجہ

آخری بات یہ کہ سرخ‌بحر فلم فیسٹیول ایک ایسے تضاد کی مثال ہے جہاں مواقع بھی ہیں اور پابندیاں بھی اور جہاں اسلامی ثقافت اور جدید تشہیری رجحانات آمنے سامنے نظر آتے ہیں۔

اس فیسٹیول کی پانچویں ایڈیشن جمعرات 13 آذر (4 دسمبر) سے شروع ہوکر 22 آذر (13 دسمبر) تک جاری رہے گی۔/

 

4321205

نظرات بینندگان
captcha