آسٹریلیا؛ سڈنی خونی واقعے پر ردعمل

IQNA

آسٹریلیا؛ سڈنی خونی واقعے پر ردعمل

16:11 - December 15, 2025
خبر کا کوڈ: 3519651
ایکنا: آسٹریلیا میں یہودیوں کی ایک مذہبی تقریب پر ہونے والے خونریز حملے پر وسیع ردِعمل سامنے آیا ہے۔ آسٹریلیا کی نیشنل کونسل آف امامز نے اس حملے کی سخت مذمت کی ہے۔

ایکنا نیوز، رائٹرز کے حوالے سے خبر رساں ذرائع نے بتایا ہے کہ آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں یہودیوں کے تہوار حنوکا کی تقریب میں شریک افراد پر نامعلوم حملہ آوروں کی فائرنگ کے نتیجے میں اب تک 16 افراد ہلاک اور 40 زخمی ہو چکے ہیں۔

آسٹریلوی پولیس کے میڈیا یونٹ کے مطابق، فائرنگ میں کم از کم 16 افراد مارے گئے ہیں جن میں ایک حملہ آور بھی شامل ہے، جبکہ دوسرا حملہ آور زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس واقعے میں کم از کم 40 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

اس حملے کے ردِعمل میں آسٹریلیا کی نیشنل کونسل آف امامز اور نیو ساوتھ ویلز کونسل آف امامز نے ایک مشترکہ بیان میں کہا: ہم بونڈی میں ہونے والی فائرنگ کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔

ادھر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے بھی کہا: میں سڈنی میں جمع ہونے والے یہودی خاندانوں پر ہونے والے اس خونریز حملے سے شدید طور پر صدمے میں ہوں اور اس کی سخت مذمت کرتا ہوں۔

آسٹریلوی وزیرِ اعظم: یہودی مذہبی تقریب پر حملہ چونکا دینے والا ہے

آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم انتھونی البانیزی نے ایک بیان میں کہا: یہ واقعہ نہایت چونکا دینے والا اور گہری تشویش کا باعث ہے۔ پولیس اور امدادی ٹیمیں موقع پر موجود ہیں اور زخمیوں کو بچانے کی کوششیں جاری ہیں۔ میں نے کچھ دیر قبل آسٹریلوی فیڈرل پولیس کے سربراہ اور نیو ساوتھ ویلز کے وزیرِ اعلیٰ سے بات کی ہے۔ مزید معلومات جلد فراہم کی جائیں گی۔

انہوں نے واقعے کے مقام کے آس پاس موجود لوگوں سے اپیل کی کہ وہ پولیس کی ہدایات اور اعلانات پر عمل کریں۔

وزیرِ اعظم نے مزید کہا: ہم یہاں سے آسٹریلیا میں اپنے یہودی بھائیوں کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ یہودی جہاں بھی ہوں، جب انہیں اپنے بھائیوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کا علم ہوتا ہے تو وہ شدید رنجیدہ ہوتے ہیں۔

آسٹریلیا میں یہودیوں کی ایک مذہبی تقریب، جسے حنوکا جشن کہا جاتا ہے، آج اتوار کے روز فائرنگ کا نشانہ بنی۔ جائے وقوعہ سے سامنے آنے والی تصاویر بظاہر ظاہر کرتی ہیں کہ دو مسلح افراد نے ایک پل سے فائرنگ کی۔

عبرانی میڈیا نے سڈنی میں ہونے والے اس خونریز حنوکا جشن میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی شناخت سے متعلق نئی تفصیلات بھی شائع کی ہیں۔ ان رپورٹس کے مطابق، صہیونی تحریک حَباد سے وابستہ ربی ایلی شلانگر اس حملے میں ہلاک ہو گئے، جبکہ آسٹریلیا کی یہودی کونسل کے سربراہ زخمی ہوئے ہیں۔

دوسری جانب صہیونی ریاست کے صدر اسحاق ہرزوگ نے اس واقعے پر کہا: سڈنی، آسٹریلیا میں ہمارے بہن بھائی دہشت گرد حملوں کا نشانہ بنے ہیں۔ سڈنی میں حنوکا کی تقریب میں بڑی تعداد میں لوگ شریک تھے۔

اسرائیل کے سابق وزیرِ اعظم نفتالی بینیٹ نے اس واقعے پر انسٹاگرام پر لکھا: آسٹریلوی حکومت بونڈی کے ساحل پر ہونے والے اس ہولناک قتلِ عام کی ذمہ دار ہے۔

انہوں نے مزید کہا: حنوکا کی شمعیں روشن کرنا خوف کے منظر میں بدل گیا ہے۔ مہینوں سے آسٹریلیا کے یہودی یہود دشمنی میں اضافے کے بارے میں خبردار کر رہے ہیں۔ میں آسٹریلوی حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ فوری طور پر یہودی برادری کے تحفظ کے لیے اقدامات کرے اور پوری سنجیدگی کے ساتھ یہود دشمنی کا مقابلہ کرے۔ یہودیوں کو کہیں بھی، بشمول آسٹریلیا، اپنی جان کے خوف میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے۔

خبر رساں ذرائع کے مطابق، آسٹریلیا کی تاریخ میں اجتماعی فائرنگ اور اسلحے کے ذریعے تشدد کے واقعات موجود رہے ہیں، جن میں سے بعض ملک کے مہلک ترین واقعات شمار ہوتے ہیں۔ اگرچہ ۱۹۹۰ کی دہائی کے بعد اسلحے کے کنٹرول سے متعلق سخت قوانین نافذ کیے گئے، تاہم ماضی کے خونریز واقعات اور بعد کے چند نادر حادثات آج بھی آسٹریلوی عوام کی اجتماعی یادداشت میں محفوظ ہیں۔/

 

4322842

نظرات بینندگان
captcha