ڈنمارکی خاتون کی اسلام فوبیا کے لیے کاوش

IQNA

ڈنمارکی خاتون کی اسلام فوبیا کے لیے کاوش

5:37 - December 16, 2025
خبر کا کوڈ: 3519652
ایکنا: الین ولف غیر مسلم خاتون جنکے پاس عربی زبان میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری ہے، انہوں نے قرآنِ کریم کا ڈنمارکی زبان میں ترجمہ اس مقصد کے تحت کیا ہے کہ اسلام کو ڈنمارک کے عوام سے متعارف کرایا جا سکے۔

ایکنا نیوز، الجزیرہ نیوز کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ قرآنِ مجید کا یہ ڈنمارکی ترجمہ، جسے دانمارک کی مستشرق خاتون الین ولف نے انجام دیا ہے، مکمل طور پر معیاری اور علمی زبان میں تیار کیا گیا ہے اور یہ 544 صفحات پر مشتمل ہے۔

الین ولف نے قرآن کو اس زبان میں ترجمہ کرنے پر تین سال کا عرصہ صرف کیا اور بتایا کہ اس ترجمے کی اشاعت کا مقصد ڈنمارک کے عوام کو دینِ اسلام سے روشناس کرانا ہے۔

انہوں نے اس حوالے سے کہا کہ اس ترجمے کی فراہمی کے ذریعے ڈنمارکی عوام اسلام سے آگاہ ہوں گے اور وہ غلط فہمیاں، جھوٹ اور الزامات جو اسلام کی شبیہ کو نقصان پہنچانے کے لیے اس دین پر عائد کیے جاتے رہے ہیں، کسی حد تک دور ہو سکیں گے۔

اس  مترجم خاتون نے اپنے اس اقدام کو اپنے ملک کی انتہاپسند دائیں بازو کی جماعتوں کے لیے ایک طرح کا جواب بھی قرار دیا ہے۔

دیگر ممالک میں ہونے والے قرآن کے تراجم کے برعکس، یہ ترجمہ صرف ڈنمارکی زبان تک محدود ہے اور اس میں عربی متن کو شامل نہیں کیا گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مترجم کے نزدیک صرف دانمارکی زبان تک محدود رکھنے سے قاری کی توجہ مفہوم پر مرکوز رہتی ہے اور وہ قاری کو دو زبانوں کے درمیان الجھانا نہیں چاہتیں، چاہے قاری ان میں سے کسی بھی زبان سے واقف نہ ہو۔

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اگرچہ مترجم نے سادہ اور آسان زبان استعمال کرنے کی کوشش کی ہے، تاہم ان کا ترجمہ مضبوط، مؤثر اور ادبی اعتبار سے اعلیٰ معیار کا حامل ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس ترجمے میں آیاتِ قرآنی کے اسبابِ نزول شامل نہیں کیے گئے، جسے بعض افراد ایک بڑی کمزوری قرار دیتے ہیں، کیونکہ قرآن کے معانی کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے اسبابِ نزول کی وضاحت ضروری سمجھی جاتی ہے۔

مزید یہ کہ اس ترجمے میں لفظ "اللہ" استعمال نہیں کیا گیا بلکہ اس کی جگہ لفظ GOD بمعنی خدا استعمال ہوا ہے، جبکہ کتاب کے سرورق پر بعض قرآنی الفاظ جیسے “قرآناً عربیاً” اور "اُمّ الکتاب" درج ہیں۔

الین ولف نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ قرآن کا ترجمہ کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا بلکہ یہ نہایت مشکل اور صبر آزما عمل تھا، جس میں تین سال سے زائد وقت لگا۔

عبدالواحد پدرسن، جو ڈنمارکی نژاد ائمہ جماعت میں سے ایک ہیں، نے اس ترجمے کے بارے میں کہا کہ یہ ترجمہ عوام کے لیے قرآنِ کریم کو سمجھنے کے دروازے کھولتا ہے اور دینِ اسلام کی تعلیمات کے بارے میں عمومی فکری شعور پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

 
ترجمه قرآن کریم به زبان دانمارکی توسط یک بانوی غیرمسلمان

 

اسی سلسلے میں، ڈنمارک کے اسلامی مرکز کے سربراہ جہاد الفرا نے بھی پدرسن کی رائے کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے مسلمانوں کی جانب سے قرآن کا ترجمہ نہ کرنا جو مالی وسائل یا علمی صلاحیت رکھتے ہوں، ایک قسم کی کوتاہی ہے جسے دور کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس نوعیت کے تراجم کو فروغ دینے اور انہیں کمال تک پہنچانے کی کوششیں بڑھیں گی تاکہ یہ تراجم مسلم اقلیت کے لیے ایک قابلِ اعتماد حوالہ بن سکیں۔

قابلِ ذکر ہے کہ ڈنمارک میں قرآن کا پہلا ترجمہ 1967ء میں عبداللہ مادسن نامی ایک ڈنمارکی نژاد مسلمان نے شائع کیا تھا، تاہم دس ہزار سے زائد نسخوں کی فروخت کے باوجود اس ترجمے کو ڈنمارک کے مسلمانوں نے تسلیم نہیں کیا، کیونکہ اس مترجم کا تعلق احمدیہ فرقے سے تھا اور اس ترجمے میں متعدد لغوی اغلاط اور پیچیدہ اصطلاحات پائی جاتی تھیں۔ الین ولف کے اس ترجمے میں، جو دانمارک میں قرآن کا دوسرا دانمارکی ترجمہ شمار ہوتا ہے، ان غلطیوں کی اصلاح کی گئی ہے۔/

 

4322798

نظرات بینندگان
captcha