
ایکنا نیوز، القدس العربی نیوز کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ کینیڈا کی حکومت کی جانب سے ایوانِ زیریں (وفاقی پارلیمان) میں پیش کیا گیا نیا بل، اپنے ممکنہ مستقبل کے اثرات اور سیاسی و مذہبی حقوق و آزادیوں، نیز آزادیِ عقیدہ اور اظہارِ رائے پر منفی اثرات کے باعث سیاسی، مذہبی اور انسانی حقوق کے حلقوں میں شدید بحث و مباحثے کا سبب بن گیا ہے۔ اس بل نے ذرائع ابلاغ کی خاصی توجہ بھی حاصل کی ہے۔
کینیڈا کی حکومت کا یہ نیا بل، جس کا عنوان “نفرت پر مبنی جرائم کا قانون (بل 9 -C) ہے، نئے قانونی نکات متعارف کراتا ہے جن کے تحت مذہبی علامات کے ذریعے نفرت پھیلانے کو جرم قرار دیا گیا ہے۔ اس کا مقصد اُن قوانین کو مزید سخت بنانا ہے جو حکومت کے بقول “نفرت پر مبنی جرائم کے خلاف ہیں۔
اس بل میں نفرت انگیزی کو عدالتی فیصلوں میں سزا کو سخت کرنے والا عنصر بھی قرار دیا گیا ہے، جبکہ اس میں ایسی دفعات شامل ہیں جو عبادت گاہوں جیسے حساس مقامات کے قریب دھمکی دینے یا انصاف کے عمل میں رکاوٹ ڈالنے کو جرم قرار دیتی ہیں۔
یہ بل کینیڈا میں گزشتہ پانچ برسوں کے دوران حکومت مخالف سرگرمیوں میں اضافے کے بعد پیش کیا گیا ہے، بالخصوص ایسے حساس معاملات میں جن کا تعلق مذہبی آزادیوں، آزادیِ عقیدہ اور اظہارِ رائے سے ہے، جیسے معاشی و سیاسی مسائل پر رائے کا اظہار، مسئلۂ فلسطین، اور ہم جنس پرستی سے متعلق حکومتی پالیسیوں کی مخالفت۔
حکومت ان تحریکوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کو روکنے میں ناکام رہی ہے، اور اب اس قانون کے ذریعے—جو حکومت کو ایسی سرگرمیوں کو دبانے اور ان میں ملوث افراد کی آزادیوں کو محدود کرنے کا اختیار دیتا ہے—انہیں قابو میں لانے کی کوشش کر رہی ہے۔
سیاسی اور انسانی حقوق کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس بل کا سب سے متنازع پہلو یہ ہے کہ اس میں آزادیِ عقیدہ اور اظہارِ رائے کو محدود کرنے کی صلاحیت موجود ہے، اور یہ آزادیوں کو صرف حکومتی پالیسیوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنے تک محدود کر سکتا ہے، خصوصاً مذہبی آرا کے اظہار کے معاملے میں۔
تنقید کرنے والوں، جن میں شہری آزادیوں اور مذہبی آزادیوں کی حامی تنظیمیں شامل ہیں، کا مؤقف ہے کہ یہ بل مذہبی مباحث کو جرم قرار دینے کا خطرہ رکھتا ہے، جبکہ اس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ کثیر النسلی اور کثیر المذاہب کینیڈین معاشرے میں بڑھتی ہوئی نفرت انگیزی کے خلاف ایک ناگزیر اقدام ہے۔/
4322874