استغفار کے اثرات دنیوی و اخروی حیات میں

IQNA

استغفار قرآن کریم میں/4

استغفار کے اثرات دنیوی و اخروی حیات میں

6:41 - December 17, 2025
خبر کا کوڈ: 3519659
ایکنا: دنیا و آخرت کی زندگی میں استغفار کے اثرات متعدد ہوتے ہیں۔

ایکنا نیوز- قرآن و روایات کی روشنی میں استغفار انسانی زندگی کے مادی اور معنوی پہلوؤں پر گہرا اثر رکھتا ہے۔ استغفار نہ صرف گناہوں کو پاک کرتا ہے بلکہ شیطان کو انسان سے دور کرتا ہے، دل کو جِلا بخشتا ہے، دل میں علم کے نور کو روشن کرتا ہے، غم و اندوہ کو دور کرتا ہے، رزق میں وسعت پیدا کرتا ہے اور مختصر یہ کہ مادی و معنوی آفات سے حفاظت کرتا ہے، نیز دنیا اور آخرت کی بے شمار برکتیں انسان کے لیے لے آتا ہے۔

روحانی امور کے دنیاوی زندگی پر اثر کا اعتقاد ہرگز اس بات کے مترادف نہیں کہ مادی اسباب کے کردار کو کمزور سمجھا جائے، بلکہ مقصود یہ ہے کہ مادی عناصر کے ساتھ ساتھ روحانی عوامل، جیسے استغفار، بھی مؤثر کردار ادا کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر حضرت صالحؑ نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم استغفار کیوں نہیں کرتے تاکہ تم پر رحمت نازل ہو (النمل: 46)۔ اسی طرح حضرت ہودؑ استغفار کے آثار میں سے ایک اثر یہ بیان کرتے ہیں کہ اس کے ذریعے دنیاوی نعمتوں سے بھرپور اور «متاعاً حسناً» یعنی روحانی سکون کے ساتھ خوشگوار زندگی حاصل ہوتی ہے۔

استغفار ہر موقع پر، خصوصاً بابرکت لمحات میں، اپنے مخصوص اثرات رکھتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کے اعمال اور اس کی زندگی کے واقعات کے درمیان ایک تکوینی اور فطری تعلق قائم ہے۔ نظامِ کائنات، مشیتِ الٰہی کے تحت، انسان کے ہر عمل کے مطابق مناسب ردِّعمل ظاہر کرتا ہے اور اسی عمل کے تناسب سے اس کے اثرات اور نتائج اسی دنیا میں انسان کو عطا کرتا ہے۔

لہٰذا بعض اذکار اور اعمال انسانی زندگی میں بے شمار مادی اور معنوی خیرات و برکات کے نزول کا سبب بنتے ہیں، جبکہ بعض اقوال و افعال مصیبتوں اور مشکلات کے نازل ہونے کا باعث بنتے ہیں۔ تاہم قرآنِ کریم انسان کو ان تمام روابط سے بلند تر زاویۂ نگاہ اختیار کرنے کی دعوت دیتا ہے تاکہ نیک اعمال اختیار کر کے اور برے کاموں سے اجتناب کر کے دنیا و آخرت کی سعادت حاصل کی جا سکے۔/

 

 

نظرات بینندگان
captcha