
ایکنا نیوز، الخلیج نیوز کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس میوزیم کا افتتاح ایک باوقار تقریب میں ہوا جس میں اسامہ الازہری، مصر کے وزیرِ اوقاف، اور احمد فؤاد ہنو، وزیرِ ثقافت نے شرکت کی، اور دونوں وزرا نے میوزیم کے مختلف حصوں کا دورہ کیا۔
اس میوزیم میں مصر کے 11 ممتاز اور جلیل القدر قاریوں کے ذاتی آثار محفوظ کیے گئے ہیں، جن میں قاری محمد رفعت، عبدالفتاح شعشاعی، طہ الفشنی، مصطفیٰ اسماعیل، محمود خلیل الحصری، محمد صدیق منشاوی، ابو العینین شعی شع، محمود علی البناء، استاد عبدالباسط عبدالصمد، محمد محمود طبلاوی اور قاری احمد الرزیفی شامل ہیں۔ افتتاحی تقریب کے موقع پر ان قاریوں کے اہلِ خانہ بھی میوزیم کے دورے میں شریک تھے۔
میوزیم کا ڈیزائن انجینئر کریم الشاپوری نے تیار کیا ہے۔ یہ میوزیم چار مرکزی ہالز پر مشتمل ہے، جہاں قرآنِ کریم کے نادر مخطوطات، قیمتی آثار اور جامعہ الازہر کی جانب سے بعض قاریوں کو عطا کردہ قرآنی اجازت نامے محفوظ کیے گئے ہیں۔
میوزیم کا ایک اور اہم حصہ منتخب تلاوتوں کو سننے کے لیے مخصوص سماعتی ہال ہے، جو زائرین کو قاریوں کے تعارف اور ان کی دلنشین تلاوتوں کو سننے کا جامع اور مؤثر تجربہ فراہم کرتا ہے۔
اس موقع پر وزیرِ اوقاف مصر اسامہ الازہری نے کہا کہ قاریانِ قرآن کے میوزیم کا افتتاح اعتدال پر مبنی دینی شناخت کے تحفظ اور اُن عظیم شخصیات کی خدمات کے اعتراف کی جانب ایک اہم قدم ہے جنہوں نے قرآنِ کریم کو لوگوں کے کانوں سے پہلے ان کے دلوں تک پہنچایا۔
انہوں نے مزید کہا کہ مصر کا مکتبِ تلاوت قرآنِ کریم کی درست فہم کے فروغ اور امتِ مسلمہ میں حسن، خشوع اور اعتدال کی قدروں کو راسخ کرنے میں ہمیشہ مؤثر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مصر کے قاریوں نے علومِ قرآن میں مہارت، اعلیٰ ادائیگی اور خالص تلاوت کو یکجا کیا، جس کے نتیجے میں ان کی تلاوتیں مختلف نسلوں کے لیے ایک فکری مکتب کی حیثیت اختیار کر گئیں۔
وزیرِ اوقاف نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ میوزیم تلاوتِ قرآن کی علامت شخصیات کی تاریخ اور دینی و روحانی آگاہی میں ان کے کردار کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔/
4323165