
ایکنانیوز، عربی 21 نیوز کے مطابق اسٹاک ہوم کی مسجد پر انتہا پسندوں کے حملے کے بعد عالمی اتحادِ علمائے مسلمین نے مسلمانوں کے مقدس مقامات پر حملوں کے سدباب کے لیے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔
اس اتحاد نے اپنے بیان میں اس اقدام کو قابلِ مذمت اور مجرمانہ فعل قرار دیا جو انسانی اقدار، الہامی ادیان اور بین الاقوامی اصولوں کے منافی ہے۔
عالمی اتحادِ علمائے مسلمین نے یورپ کے متعدد ممالک میں مسلمانوں کی صورتِ حال اور ان کے حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا، جو ان کی زندگی، مقدس مقامات، حقوق اور وقار کو متاثر کر رہی ہیں۔ اتحاد نے دنیا بھر میں مسلمانوں کے جذبات کو بار بار بھڑکانے والی کارروائیوں کی طرف بھی اشارہ کیا۔
اس اسلامی تنظیم کے بیان میں اس جرم کے ساتھ ساتھ قرآنِ کریم کی بے حرمتی کے تمام واقعات، حملوں، نسل پرستانہ بیانات، اسلام مخالف اشتعال انگیزیوں اور نفرت پر مبنی جرائم کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ہے، جو حالیہ برسوں میں خصوصاً سویڈن اور پورے یورپ میں مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہوئے تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔
اتحاد نے یورپی ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ ان اشتعال انگیزیوں اور جرائم کی روک تھام کے لیے ٹھوس اقدامات کریں اور اسلام اور دیگر ادیان کے خلاف نسل پرستی اور نفرت انگیزی کے خاتمے کے لیے سنجیدگی سے کوشش کریں۔
اسٹاک ہوم، سویڈن کے دارالحکومت میں اسلاموفوبیا سے متاثر انتہا پسندوں کے ایک نسل پرستانہ حملے کے دوران ایک مسجد میں قرآنِ کریم کا ایک نسخہ ملا جو سیڑھی کی ریلنگ کے ساتھ زنجیر سے بندھا ہوا تھا اور اس پر گولیوں کے چھ سوراخ تھے۔
مسجد کے مدیر محمود الخلیفی نے خبر رساں ادارے اناتولی کو بتایا کہ نسل پرستانہ اور اسلام مخالف حملے روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ایک قرآنِ کریم ملا جس پر عربی اور سویڈش زبان میں یہ لکھا ہوا تھا: ہم آپ کو دیکھ کر خوش ہیں، لیکن اب گھر جانے کا وقت آ گیا ہے۔/
4324331