
ایکنا کی رپورٹ کے مطابق، انگلینڈ میں اسلامی مراکز پر حملوں کے تسلسل کے دوران، کچھ افراد نے صہیونی رژیم، پہلوی رژیم اور برطانیہ کے پرچم اٹھائے ہوئے برمنگھم شہر میں واقع امام رضاؑ اسلامی مرکز پر حملہ کیا اور اسے نقصان پہنچایا۔
ملک کے اندر فتنوں کے فروکش کرنے اور ایران میں معمول کی زندگی کی بحالی سے متعلق بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے ساتھ ہی، بیرونِ ملک مقیم مخالفِ انقلاب گروہوں نے غیرقانونی سرگرمیوں میں شدت لا کر ایک بار پھر اپنی تشدد پسندانہ فطرت کو آشکار کر دیا ہے؛ یہاں تک کہ لندن پولیس کی رپورٹ کے مطابق، امنِ عامہ میں خلل ڈالنے کے الزام میں ۱۴ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
مغرب میں ایران دشمنی، اسلام دشمنی اور منظم اسلاموفوبیا کا نتیجہ نفرت انگیزی اور کھلے تشدد کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا۔ اس وحشیانہ اقدام کی مکمل اور شفاف تحقیقات اور اس کے نتائج کا اعلان برطانوی حکومت کی فوری ذمہ داری ہے۔
واضح رہے کہ انگلینڈ میں ادارہ جاتی نسل پرستی سے متعلق حالیہ رپورٹس بھی اس مسئلے کی سنگینی میں مزید اضافہ کرتی ہیں اور قابلِ غور ہیں۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب گزشتہ دنوں بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے ایران کے شہروں میں نظم و ضبط اور معمول کی زندگی کے تدریجی طور پر بحال ہونے کی خبریں شائع کی ہیں اور بازاروں کی سرگرمیوں کے تسلسل اور عوامی مقامات پر معمول کے مطابق آمد و رفت کی تصاویر بھی جاری کی گئی ہیں؛ ایک ایسی صورتِ حال جس نے بظاہر معاند گروہوں کو مشتعل کر دیا اور انہیں یورپ میں قانون شکنی اور اپنی تشدد پسندانہ ذہنیت کے اظہار پر آمادہ کر دیا۔