ایکنا نیوز- فرانس پریس کے مطابق ذرائع ابلاغ اور انسانی حقوق کی رپورٹس نے فرانس میں مسلمانوں، بالخصوص مراکشی نژاد برادری کے خلاف بڑھتے ہوئے دباؤ اور امتیازی سلوک کے رجحان پر خبردار کیا ہے۔
مبصرین اسے مذہب یا ثقافت کی بنیاد پر اجتماعی امتیاز کی نئی شکلوں کے دوبارہ ابھرنے کی ایک تشویشناک علامت قرار دے رہے ہیں۔
شائع ہونے والی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم نے تقریباً 3000 مساجد اور لگ بھگ 1500 ایسے محلّوں کا ڈیٹا، جہاں اکثریت مسلمانوں کی ہے، ایک عوامی طور پر قابلِ رسائی ڈیٹا بیس میں شامل کر دیا ہے۔ اس اقدام پر انسانی حقوق کے حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کی گئی ہے، کیونکہ ان کے نزدیک مذہب یا نسلی شناخت کی بنیاد پر اجتماعی درجہ بندی اور امتیاز کے امکانات کے باعث یہ عمل سنگین قانونی خطرات سے بھرپور ہے۔
میڈیا رپورٹس میں عرب برادریوں کے افراد کی گواہیاں بھی شامل ہیں جنہوں نے تصدیق کی کہ اس قسم کی نگرانی اور فہرست سازی ان کی روزمرہ زندگی پر براہِ راست اثر ڈالتی ہے اور امتیازی و اخراجی بیانیے میں اضافے کے ماحول میں نشانہ بنائے جانے کے احساس، بے چینی اور عدم اعتماد کو مزید گہرا کرتی ہے۔ اس تناظر میں انسانی حقوق کے کارکنوں نے خبردار کیا کہ ان اقدامات کا تسلسل اسلاموفوبیا کو ہوا دے سکتا ہے اور مساوات و انسانی حقوق کے احترام کے ان بنیادی اصولوں کو کمزور کر سکتا ہے جو فرانس کے قانونی اور آئینی نظام کی بنیاد ہیں۔
متعلقہ فریقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ فرانسیسی عدلیہ مداخلت کرے تاکہ ان متنازع اقدامات کا خاتمہ ہو اور قومی قوانین و بین الاقوامی کنونشنز کی پاسداری کو یقینی بنایا جا سکے، جو مذہب یا نسلی شناخت کی بنیاد پر ہر قسم کے امتیاز کو جرم قرار دیتے ہیں۔ یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کئی یورپی ممالک میں مسلم برادریوں کے خلاف دباؤ پر تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔
گزشتہ ہفتے شمس الدین حافظ (Chems-eddine Mohamed Hafiz)، مسجدِ اعظم پیرس کے متولی نے گزشتہ برس کو فرانس میں مسلم برادری کے لیے ایک نہایت کٹھن اور اثرانداز سال قرار دیا، جس میں حالات اس حد تک پہنچ گئے کہ مذہب کی بنیاد پر اخراج کا سامنا کرنا پڑا، جس نے جسم اور ذہن دونوں پر گہرے اثرات چھوڑے۔
انہوں نے مسلمانوں کی ہلاکت کا سبب بننے والے متعدد حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے، ان واقعات اور رویّوں پر فرانسیسی حکام کی خاموشی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
https://iqna.ir/fa/news/4329189