
ایکنا نیوز- العالم نیوز چینل کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ نفرت انگیز تقاریر کے خلاف عوامی سطح پر وسیع مخالفت کی عکاسی کرنے والے ایک منظر میں، ریاست مینیسوٹا کے شہر منییاپولس میں سینکڑوں مظاہرین نے دائیں بازو کے انتہاپسند کارکن جیک لانگ اور اس کے چھوٹے سے گروہ کا پیچھا کیا، جب اس نے قرآن مجید کا ایک نسخہ علانیہ جلانے کے ارادے کا اعلان کیا۔
لانگ، جو 2011 میں کانگریس کی عمارت پر حملے میں شرکت کے باعث پہچانا جاتا ہے اور جسے صدارتی معافی بھی دی جا چکی تھی، نے مینییاپولس سٹی ہال کے سامنے اس پروگرام کا اہتمام کیا تھا جسے وہ ’’منییاپولس اینٹی فراڈ مارچ‘‘ قرار دے رہا تھا۔ اس منصوبے کے تحت وہ قرآن مجید نذرِ آتش کرنا چاہتا تھا اور اس کے بعد سیڈر ـ ریورسائیڈ کے محلے کی طرف پیش قدمی کا ارادہ رکھتا تھا، جو صومالی نژاد امریکیوں کی سب سے بڑی آبادی کا مسکن ہے۔
تاہم شدید سردی کے باوجود مظاہرین کی بڑی تعداد نے اس منصوبے کو ناکام بنا دیا۔ لانگ اور اس کے حامیوں کا کئی بلاکس تک تعاقب کیا گیا، یہاں تک کہ وہ سر پر چوٹ لگنے اور مظاہرین کی جانب سے پھینکے گئے پانی سے بھرے غباروں سے بھیگنے کے بعد قریبی ایک ہوٹل میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے۔
جیسا کہ متعدد میڈیا رپورٹس نے تصدیق کی ہے، وہ قرآن مجید کو جلانے میں ناکام رہا۔ یہ واقعہ شہر میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں پیش آیا، جو امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کی کارروائیوں میں اضافے اور حالیہ دنوں میں اسی ادارے کے ایک افسر کی فائرنگ سے ایک خاتون کی ہلاکت کے بعد پیدا ہوئی تھی، جس نے مذہبی یا نسلی اشتعال انگیزی کی کسی بھی کوشش کے حوالے سے حساسیت کو مزید بڑھا دیا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں اور سول سوسائٹی نے اس واقعے کو آزادیٔ عقیدہ پر حملہ اور نفرت کو ہوا دینے کی کوشش قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی، اور اس بات پر زور دیا کہ عوامی ردِعمل اس امر کی توثیق کرتا ہے کہ عوامی مقامات کو مذاہب کی توہین یا اکثریت کی جانب سے مہاجر اقلیتوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیے جانے کی سخت مخالفت کی جاتی ہے۔